میرا سوال یہ ہے کہ آج کے دور میں جو آن لائن ٹریڈنگ کی جاتی ہے، جیسے فاریکس ٹریڈنگ، کرپٹو کرنسی، شیئر مارکیٹ یا مختلف ڈیجیٹل ٹریڈنگ ایپس کے ذریعے خرید و فروخت، ان میں عموماً مارجن، لیوریج، فیوچر کنٹریکٹ، شارٹ سیلنگ اور بعض صورتوں میں سود (اوور نائٹ / سوَیپ چارجز) شامل ہوتے ہیں۔براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ:کیا اس طرح کی ٹریڈنگ شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں جائز ہے یا ناجائز؟اگر ہر قسم کی ٹریڈنگ جائز نہیں، تو کن شرائط کے ساتھ ٹریڈنگ کو حلال کہا جا سکتا ہے؟کیا صرف اسپاٹ خرید و فروخت (بغیر سود، بغیر قرض، بغیر جوئے اور بغیر غرر) کی صورت میں ٹریڈنگ کی اجازت ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور معتبر کتبِ فقہِ اہلِ سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً
وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
الجواب بعون الملک الوہاب
شریعتِ اسلامیہ میں تجارت اصلًا جائز اور حلال ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾
اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال فرمایا اور سود کو حرام کیا (سورۃ البقرۃ: 275)
اور نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا التاجر الصدوق الأمين مع النبيين والصديقين والشهداء
سچا اور امانت دار تاجر قیامت میں انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا (ترمذی) البتہ ہر وہ تجارت جس میں سود، غرر (شدید جہالت و دھوکہ)، قمار (جوّا) یا ناجائز شرطیں پائی جائیں، وہ شرعاً ناجائز و حرام ہوتی ہے لہٰذا آج کل رائج مختلف آن لائن ٹریڈنگ کی صورتوں کا حکم الگ الگ ہے
1۔ فاریکس ٹریڈنگ (Forex Trading) عموماً موجودہ فاریکس ٹریڈنگ میں مارجن (قرض پر ٹریڈ) لیوریج سوَیپ / اوور نائٹ سود حقیقی قبضہ کے بغیر خرید و فروخت پائی جاتی ہیں اس لیے یہ صورتیں شرعاً ناجائز ہیں کیونکہ ان میں سود اور غیر حقیقی معاملہ شامل ہوتا ہے خصوصاً کرنسی کی خرید و فروخت میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ معاملہ فوراً ہاتھ در ہاتھ (قبضہ) ہو ادھار یا تاخیر نہ ہو
حدیث شریف میں ہے الذهب بالذهب… يداً بيد (مسلم) یعنی ربوی اشیاء کا تبادلہ فوری قبضہ کے ساتھ ہونا ضروری ہے 2۔ کرپٹو کرنسی (Crypto Currency) کرپٹو کرنسی کے بارے میں معاصر علماء کے درمیان اختلاف ہے لیکن اکثر اکابر اہلِ سنت علماء نے موجودہ رائج کرپٹو ٹریڈنگ میں شدید غرر غیر یقینی پن سٹے بازی اور بعض اوقات دھوکہ و غیر حقیقی مالیت کی وجہ سے احتیاطاً عدمِ جواز کا قول اختیار فرمایا ہے بالخصوص اگر مقصد صرف قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے نفع کمانا ہو اور حقیقی تجارت نہ ہو تو یہ قمار (جوئے) سے مشابہ ہو جاتا ہے 3۔ شیئر مارکیٹ (Stock Market) شیئر مارکیٹ کی ہر صورت ناجائز نہیں، بلکہ اس کی بعض صورتیں جائز اور بعض ناجائز ہیں
جائز ہونے کی شرائط 1 کمپنی کا اصل کاروبار حلال ہو مثلاً شراب سودی بینک جوا فحاشی وغیرہ کا کاروبار نہ ہو 2 شیئر کی خرید و فروخت حقیقی ملکیت کے بعد ہو 3 سودی قرض اور حرام معاملات غالب نہ ہوں 4 شارٹ سیلنگ نہ ہو 5 فیوچر اور آپشن کنٹریکٹ نہ ہوں 6محض سٹے بازی مقصود نہ ہو اگر ان شرائط کے ساتھ اسپاٹ بنیاد پر حقیقی خرید و فروخت ہو تو بعض اہلِ علم نے اس کی اجازت دی ہے
4 فیوچر ٹریڈنگ، آپشنز اور شارٹ سیلنگ یہ صورتیں عموماً ناجائز ہیں کیونکہ ان میں غیر موجود چیز کی بیع قبضہ سے پہلے فروخت غرراور قمار پایا جاتا ہے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا لا تبع ما ليس عندك جو چیز تمہارے پاس موجود نہ ہو اسے فروخت نہ کرو(ترمذی)
اسی طرح شارٹ سیلنگ میں انسان وہ چیز بیچتا ہے جس کا مالک نہیں ہوتا لہٰذا یہ بھی ناجائز ہے
خلاصۂ حکم
موجودہ دور کی اکثر آن لائن ٹریڈنگ خصوصاً لیوریج مارجن سودی سویپ فیوچر آپشن شارٹ سیلنگ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز ہے البتہ اگر تجارت حقیقی ہو اسپاٹ خرید و فروخت ہو فوری یا معتبر قبضہ پایا جائے سود جوّا غرر اور ناجائز شرطیں نہ ہوں
اور معاملہ کسی حلال چیز میں ہو تو ایسی محدود صورت میں ٹریڈنگ کے جواز کی گنجائش ہو سکتی ہے
لہٰذا کسی بھی ایپ یا پلیٹ فارم میں سرمایہ لگانے سے پہلے اس کے مکمل طریقۂ کار کو کسی مستند مفتیِ اہلِ سنت کو دکھا کر شرعی رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح فقط مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات
