سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ موبائل پر کسی شخص سے بات کرتے ہوئے سامنے والے کی گفتگو کو اس کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرنا کیسا ہے؟
سائلہ صدف فاطمہ
الجواب بعون الملک الوہاب
صورتِ مسئولہ میں اگر سامنے والا شخص اس طور پر گفتگو کر رہا ہو کہ اس کی بات کو راز اور امانت سمجھا جائے یا قرائن سے معلوم ہو کہ وہ اپنی گفتگو کو ریکارڈ یا دوسروں تک پہنچانا پسند نہیں کرتا تو اس کی اجازت کے بغیر اس کی گفتگو ریکارڈ کرنا شرعاً ناجائز ہے کیونکہ کسی کی رازدارانہ بات اس کی اجازت کے بغیر محفوظ کرنا اور پھر اسے دوسروں تک پہنچانا اس کے حق میں خیانت اور راز افشا کرنے کا سبب بن سکتا ہے
نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم نے فرمایا: إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْحَدِيثَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ
ترجمہ:جب کوئی شخص کوئی بات بیان کرے پھر ادھر اُدھر دیکھے (کہ کوئی سن تو نہیں رہا) تو وہ بات امانت ہے
(سنن ترمذی ج 3 ص 386 حدیث 1966)
اسی حدیث کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اکیلے میں ایسی بات کرے جس سے ظاہر ہو کہ وہ اسے راز رکھنا چاہتا ہے تو اسے امانت سمجھا جائے اور اس کا راز ظاہر نہ کیا جائے
لہٰذا محض کسی کی گفتگو کو اس کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرنا درست نہیں خصوصاً جبکہ گفتگو نجی یا رازدارانہ ہو البتہ اگر کوئی شرعی یا معتبر قانونی ضرورت ہو مثلاً کسی ظلم دھوکے یا حق تلفی کے ثبوت کو محفوظ کرنا مقصود ہو تو اس کی الگ تفصیل ہے اور اس صورت میں مقصد طریقہ اور حاصل شدہ ریکارڈ کے استعمال کو ملحوظ رکھا جائے گا
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
ماشاء اللہ بہت عمدہ جواب ✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار الھند
