امام کے مصلّے پر دوسرا شخص نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟؟؟


             السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ مصلّے پر امام کے کوئی اور آدمی نماز ادا کر سکتا ہے جیسے سنت نوافل وغیرہ؛ 

       سائل محمد حسنین رضا پیلی بھیتی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
         وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته

             الجواب بعون الملک الوہاب

 کوئی بھی نمازی امام کے مصلّے پر کھڑا ہو کر فرض واجب سنت و نفل سب پڑھ سکتا ہے اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں؛ مگر عرف کا اعتبار کیا جائے گا جہاں لوگ برا سمجھتے ہوں وہاں نہ پڑھنا بہترہے( کتب فقہ) 

                 واللہ تعالی اعلم باالصواب

کتبـــــــــہ محمـــد معصـوم رضا نوری عفی عنہ منگلور کرناٹک انڈیا
🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0