(سوال) ایک حدیث میں آیا ہے کہ بد اخلاق عورت کو طلاق نہ دینے والے شوہر کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ اگر موجودہ قانونِ ہند کی وجہ سے طلاق دینے پر سخت قانونی نتائج یا سزا کا اندیشہ ہو، تو کیا یہ عذر معتبر ہوگا؟ نیز ایسی صورت میں شوہر کے لیے شرعاً کیا حکم ہے اور وہ کون سا جائز راستہ اختیار کرے کہ شریعت پر بھی عمل ہو اور قانونی پیچیدگیوں سے بھی بچ سکے؟
(جواب) محض اس وجہ سے کہ بیوی بد اخلاق ہے اسلام طلاق کا حکم نہیں دیتا۔ اور مذکور حدیث میں ہر دعا کا ناقابل قبول ہونا مفہوم نہیں بلکہ وہی دعا مراد ہے جو بندہ اپنی بیوی کی بداخلاقی سے تنگ آکر اس کے خلاف کرتا ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے اسے طلاق کے ذریعے آسانی دی تجی جسے وہ اختیار نہیں کر رہا ہے علامہ مناوی، فتح القدیر میں فرماتے ہیں فإذا دعى عليها لا يستجيب له لأنه المعذب نفسه بمعاشرتها وهو في سعة من فراقها. یعنی جب وہ اس (بد اخلاق بیوی) کے خلاف دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول نہیں کی جاتی کیونکہ وہ خود ہی اس کے ساتھ رہ کر اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال رہا ہے، حالانکہ اسے اس سے جدا ہونے کی گنجائش حاصل ہے والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
