(سوال) زید نے اپنی قابلِ تقسیم مشترکہ جائیداد تقسیم کیے بغیر مشترکہ طور پر ہبہ کر دی، یعنی موہوب لہ کے حصے الگ متعین نہیں کیے دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسی ہبہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ نیز اس جائیداد سے بعد میں جو آمدنی حاصل ہوئی اس کا کیا حکم ہے؟
(جواب) قابلِ تقسیم چیز (جیسے زمین مکان باغ وغیرہ) کا غیر منقسم (مشاع) ہبہ صحیح نہیں ہوتا اگرچہ واہب موہوب لہ کو اس کا قبضہ بھی دے دے تب بھی موہوب لہ اس کا شرعی مالک نہیں بنتا کیونکہ ملکیت اس وقت تک منتقل نہیں ہوتی جب تک موہوب حصہ تقسیم کرکے الگ متعین اور ممتاز نہ کر دیا جائے اور اس پر مکمل قبضہ نہ دیا جائے۔ صورت مسؤلہ میں تقسیم کیے بغیر مشترکہ طور پر ہبہ کر دی گئی تھی لہذا موہوب لہ اس کا مالک نہیں بنا بلکہ جائیداد بدستور واہب ہی کی ملک رہی اس بنا پر اس جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شرعاً واہب ہی کی شمار ہوگی نہ کہ موہوب لہ کی در مختار (ص: ٥٦١) میں ہے (لا) تتم بالقبض (فيما يقسم ولو) وهبه (لشريكه) أو لاجنبي لعدم تصور القبض الكامل كما في عامة الكتب فكان هو المذهب فتاوی رضویہ (٣٣٩/١٩) میں ہے یہاں جبکہ جائداد قابل قسمت ہے او ر دو شخصوں کوبلاتقسیم ہبہ کی گئی ہبہ مشاع ہوا او رہبہ مشاع ناجائز ہے والله تعالى أعلم
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
