(سوال) ایک خاتون کا دعویٰ ہے کہ اس نے حضور ﷺ کو بیداری کی حالت میں دیکھا اور حضور ﷺ نے اس سے مصافحہ فرمایا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ کیا حضور ﷺ عالمِ بیداری میں کسی خاتون سے مصافحہ کر سکتے ہیں؟ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
(جواب) سنت سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے غیر محرم عورتوں سے ہاتھ ملا کر بیعت نہیں فرمائی، بلکہ فرمایا: إني لا أصافح النساء (سنن النسائي م: ٤١٨١) لہٰذا یہ اعتقاد نہیں رکھا جا سکتا کہ مذکور تفصیل صحیح ہے البتہ حضور اکرم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام واولیاء الله سے حقیقی ملاقات عقلا ممکن ہے اور اہلِ سنت کی کتب میں اس کے متعدد واقعات مذکور ہیں لیکن ایسے تمام دعووں کو شرعی اصولوں کے مطابق پرکھا جائے گا اور جو دعوی سنت ثابتہ کے خلاف ہو وہ قابلِ قبول نہیں ہوگا والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
