(سوال) بڑے بھائی نے اپنے ذاتی سرمایہ سے دکان شروع کی۔ تقریباً ٣، ٤ سال بعد انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو بھی کاروبار میں ساتھ رکھ لیا۔ اب اس بات کو تقریباً ١٨ سال ہو گئے ہیں۔ بعد میں شرعی مسئلہ معلوم ہوا کہ کاروبار کا مالک صرف بڑا بھائی ہے اور چھوٹا بھائی معاون (ملازم یا مددگار) کی حیثیت رکھتا تھا، شریک نہیں تھا اب بڑا بھائی اپنی خوشی سے چاہتا ہے کہ چونکہ چھوٹے بھائی نے اتنے سال اس کے ساتھ محنت کی ہے، اس لیے اسے کاروبار میں ٥٠ فیصد کا شریک بنا دے کیا اس مقصد کے لیے جائز ہے کہ بڑا بھائی دکان اور گودام میں موجود مال کا ٥٠ فیصد حصہ ٥٠٠ روپے ادھار پر فروخت کرے پھر وہ ٥٠٠ روپے معاف کر دے؟
(جواب) بڑا بھائی اپنی خوشی سے اپنے مال کا ٥٠ فیصد حصہ چھوٹے بھائی کو بیچ سکتا ہے، مذکور صورت اصولاً درست ہے، کیونکہ صحیح بیع کے بعد بائع کے لیے خریدار کا قرض معاف کرنا اور اپنے مال کو اس کی مالیت سے کم قیمت میں فروخت کرنا جائز ہے اس طرح فروخت کے بجائے ہبہ بھی کیا جا سکتا ہے اس کی صورت یہ ہے کہ واضح الفاظ میں کہے میں اپنے کاروبار دکان اور موجودہ مال میں سے پچاس فیصد حصہ تمہیں ہبہ کرتا ہوں اور چھوٹا بھائی اسے قبول کر لے اگر ہبہ کی شرائط پوری ہو جائیں خصوصاً ایسے طریقے سے قبضہ اور تصرف حاصل ہو جائے جو مشترک اموال میں معتبر ہے تو چھوٹا بھائی اس حصے کا مالک بن جائے گا والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
