السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ
حضرت مفتی صاحب! ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے، براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں
میں ایک ایسے آفس میں ملازمت کرتا ہوں جہاں زیادہ تعداد ہندو ملازمین کی ہے۔ میری ڈیوٹی کے اوقات ایسے ہیں کہ عصر اور مغرب کا وقت آفس ہی میں گزر جاتا ہے۔
آفس میں نماز پڑھنے کے لیے کوئی الگ کمرہ یا مناسب جگہ موجود نہیں ہے۔ اگر آفس میں مصلیٰ بچھا کر نماز پڑھوں اور دوسرے لوگوں کی نظر پڑ جائے تو اعتراض کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کہ آفس میں نماز نہ پڑھیں۔ موجودہ ملکی حالات کے پیشِ نظر مجھے یہ حقیقی اندیشہ بھی ہے کہ آفس میں نماز پڑھنے کی وجہ سے شکایت ہو سکتی ہے اور میری ملازمت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اس صورتِ حال میں براہِ کرم درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:
1۔ کیا ایسی مجبوری کی صورت میں آفس میں کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کر سکتے ہیں؟
2۔ اگر کرسی پر نماز پڑھنا جائز ہو تو رکوع اور سجدے کا طریقہ کیا ہوگا؟ کیا رکوع کے لیے کچھ جھکنا اور سجدے کے لیے اس سے زیادہ جھکنا کافی ہوگا؟
3۔ اگر کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنا درست نہ ہو تو کیا ایسی مجبوری کی صورت میں نماز کا وقت گزرنے کے بعد گھر آکر عصر اور مغرب کی قضا ادا کرنا جائز ہوگا؟
4۔ اس صورتِ حال میں شرعاً صحیح اور افضل طریقہ کیا ہوگا تاکہ نماز بھی ادا ہو جائے اور ملازمت کے نقصان سے بھی حتی الامکان بچا جا سکے؟
براہِ کرم مذکورہ صورتِ حال کا مکمل شرعی حکم واضح فرمائیں اور ممکن ہو تو معتبر کتب کے حوالوں کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں
سائل: محمد افروز عالم جلالپور، سیوان (بہار)
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
صورتِ مسئولہ میں سائل اگر دفتر میں عصر و مغرب کی نماز کے وقت موجود ہو تو محض اس وجہ سے کہ وہاں ہندو ملازمین کی کثرت ہے یا لوگوں کے دیکھنے اور اعتراض کرنے کا اندیشہ ہے، فرض نماز کو وقت سے گزار دینا جائز نہیں۔ بلکہ حتی الامکان وقت کے اندر نماز ادا کرنا لازم ہے
فرض نماز میں قیام فرض ہے، لہٰذا جو شخص قیام پر قادر ہو، وہ محض لوگوں کے اعتراض یا ملازمت کے معمولی اندیشے کی وجہ سے کرسی پر بیٹھ کر فرض نماز ادا نہیں کرسکتا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
ان لحقہ نوع مشقۃ لم یجز ترک القیام
یعنی اگر کسی کو محض کچھ مشقت لاحق ہو تو قیام ترک کرنا جائز نہیں
اور مزید فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو کچھ دیر کھڑے ہونے کی طاقت ہو تو جتنی دیر قیام کرسکتا ہو اتنا قیام کرنا فرض ہے، خواہ صرف تکبیرِ تحریمہ ہی کھڑے ہوکر کہہ سکتا ہو پھر بیٹھ جائے
(فتاویٰ رضویہ، جلد 6، صفحہ 160، 161، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
لہٰذا سائل پہلے دفتر میں ایسی پاک جگہ تلاش کرے جہاں نماز ادا ہوسکے، مثلاً کوئی خالی کمرہ، اسٹور، سیڑھیوں کے پاس مناسب جگہ یا دفتر کا کوئی ایسا گوشہ جہاں نماز پڑھنے میں دوسروں کی مداخلت نہ ہو۔ اگر ممکن ہو تو دفتر کے ذمہ دار سے مختصر وقت کے لیے نماز کی اجازت بھی حاصل کرے
البتہ اگر صورتِ حال واقعی ایسی ہو کہ دفتر میں نماز پڑھنے سے سائل کو ملازمت ختم ہونے یا کسی شدید اور ناقابلِ برداشت ضرر کا غالب گمان ہو اور نماز کے وقت میں کسی محفوظ مقام پر نماز ادا کرنے کی بھی کوئی صورت نہ ہو تو ایسی حقیقی مجبوری کا حکم عام لوگوں کے اعتراض سے مختلف ہوگا۔ اس صورت میں کسی مستند سنی مفتی کو تمام حالات بتا کر مخصوص صورت کا فتویٰ لینا چاہیے صرف یہ خیال کہ لوگ کیا کہیں گے شرعی عذر نہیں
کرسی پر نماز کا طریقہ
اگر کسی معتبر شرعی عذر کی بنا پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہو، تو اگر رکوع و سجود کی قدرت بھی نہ ہو تو اشارے سے رکوع و سجود کرے۔ رکوع کے لیے کچھ جھکے اور سجدے کے لیے رکوع سے زیادہ جھکے سجدے کا اشارہ رکوع سے پست ہونا ضروری ہے
بہارِ شریعت میں ہے اشارہ کی صورت میں سجدہ کا اشارہ رکوع سے پست ہونا ضروری ہے
(بہارِ شریعت، حصہ 3، جلد 1، صفحہ 510، 511)
کیا نماز وقت گزرنے کے بعد گھر آکر قضا کرسکتے ہیں؟
اگر سائل نماز کے وقت دفتر میں موجود ہے اور کسی شرعی عذر کے بغیر نماز کو جان بوجھ کر وقت سے گزار دیتا ہے، پھر گھر آکر قضا کرتا ہے، تو یہ درست طریقہ نہیں؛ فرض نماز کو اس کے مقررہ وقت میں ادا کرنا لازم ہے
لہٰذا صحیح اور افضل طریقہ یہی ہے کہ نماز کے وقت کو ہرگز ضائع نہ کیا جائے اور دفتر میں کسی مناسب، پاک اور حتی الامکان پوشیدہ جگہ پر نماز ادا کی جائے اگر حقیقی ضرر کا ایسا غالب اندیشہ ہو جسے شرعاً عذر مانا جائے تو پھر اسی عذر کی رعایت کے ساتھ بقدرِ استطاعت نماز ادا کی جائے
خلاصۂ کلام:صرف لوگوں کے دیکھنے یا اعتراض کرنے کی وجہ سے کرسی پر فرض نماز پڑھنا جائز نہیں قیام پر قدرت ہو تو قیام کے ساتھ نماز پڑھنا لازم ہے۔ البتہ اگر واقعی شدید ضرر یا ملازمت کے ختم ہونے کا غالب اندیشہ ہو اور نماز کے وقت میں کوئی دوسری محفوظ جگہ بھی میسر نہ ہو تو معاملہ حقیقی عذر کے حکم میں آسکتا ہے جس کی تفصیل حالات دیکھ کر طے ہوگی بہرحال بلاعذر نماز کو وقت سے گزار کر قضا کرنا جائز نہیں
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار انڈیا
