(سوال) زید نے جان بوجھ کر پہلی رکعت میں سورۂ ناس اور دوسری رکعت میں سورۂ فلق پڑھی تو نماز کا کیا حکم ہے؟ نیز ایسے گاؤں میں جہاں جمعہ فرض نہیں امام جمعہ کے دن پہلے جمعہ کی نماز پڑھاتا ہے پھر ظہر کی نماز پڑھاتا ہے اور دونوں نمازیں ایک ہی مصلے پر ادا کی جاتی ہیں تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
(جواب) اسے توبہ کا حکم ہوگا کہ وہ مکروہِ تحریمی کا مرتکب ہوا البتہ نماز فاسد نہیں ہوئی، نہ سجدۂ سہو یا اعادہ لازم ہوا۔ رہی دوسری صورت تو دیہات میں جمعہ فرض نہیں بلکہ اس دن ظہر کی نماز ہی فرض ہے اور محض جمعہ پڑھ لینے سے ظہر کا فرض ساقط نہیں ہوتا بلکہ ذمہ پر باقی رہتا ہے البتہ جہاں عوام پہلے سے جمعہ پڑھتے چلے آرہے ہوں وہاں مصلحت کے پیشِ نظر انہیں جمعہ پڑھنے سے منع نہ کیا جائے کیونکہ عوام جس طرح بھی الله عزوجل کا نام لیں غنیمت ہے اور ایسے مقام پر عالم کا انہیں جمعہ پڑھانا درست ہے اس کے بعد چار رکعت فرضِ ظہر جماعت کے ساتھ ادا کی جائیں یہ ظہر احتیاطی نہیں بلکہ اصل فرضِ ظہر ہے ظہرِ احتیاطی ان خواص کے لیے ہے جنہیں اس مقام کے شہر ہونے یا نہ ہونے میں شک ہو لہٰذا دیہات میں دو رکعت جمعہ پڑھنے کے بعد چار رکعت فرضِ ظہر ادا کرنا ضروری ہے، اور دونوں نمازیں ایک ہی مصلّے پر ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
