السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ
(سوال) ایک مکان کی افتتاح تھی، وہاں مدرسہ کے بچوں کو زوال سے پہلے قرآن خوانی کے لیے بھیجا گیا۔ بچوں نے قرآن خوانی شروع کی، بعد میں زوال کا وقت شروع ہوگیا اور ختم ہونے کے قریب قرآن خوانی مکمل ہوئی، پھر اولِ وقتِ ظہر فاتحہ خوانی ہوئی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس صورت میں کوئی شرعی حکم نافذ ہوگا؟
(جواب) ان پر کوئی شرعی گرفت نہیں وقتِ زوال میں تلاوتِ قرآنِ کریم فی نفسہٖ جائز ہے، اگرچہ ان اوقات میں درود شریف، دعا اور تسبیح میں مشغول ہونا تلاوت سے افضل ہے۔ بحر الرائق (٢٦٥/١) میں ہے وفي البغية الصلاة على النبي ﷺ في الأوقات التي تكره فيها الصلاة والدعاء والتسبيح أفضل من قراءة القرآن. اهـ. ولعله؛ لأن القراءة ركن الصلاة وهي مكروهة فالأولى ترك ما كان ركنا لها. یعنی بغیہ میں ہے کہ جن اوقات میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، ان اوقات میں نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا دعا کرنا اور تسبیح پڑھنا قرآنِ کریم کی تلاوت سے افضل ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ قراءت نماز کا ایک رکن ہے اور ان اوقات میں نماز مکروہ ہے لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اس چیز کو بھی ترک کیا جائے جو نماز کا رکن ہے
شامی (٣٧٤/١) میں ہے:(قوله: فالأولى) أي فالأفضل ليوافق كلام البغية فإن مفاده أنه لا كراهة أصلا؛ لأن ترك الفاضل لا كراهة فيه. یعنی اولی ہے اس کا مفاد یہ ہے کہ اس وقت قرآنِ کریم کی تلاوت میں اصلاً کوئی کراہت نہیں اس لیے کہ کسی افضل عمل کو چھوڑ دینا بذاتِ خود موجبِ کراہت نہیں ہوتا اھـ خلاصہ یہ ہے کہ دوسرے اذکار کو تلاوتِ قرآن پر افضل قرار دینے کی اصل وجہ ہمیں یقینی طور پر معلوم نہیں ممکن ہے کہ صاحبِ بحر نے جو وجہ بیان فرمائی ہے، وہی اس کی علت ہو اور یہ ایسی وجہ ہے جس سے قیاساً تلاوت کی کراہت ثابت ہوتی ہے اور چونکہ احتمال سے کراہت ثابت نہیں ہوتی، اسے راجح نہیں کہا جا سکتا والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
