(سوال) زید کہتا ہے: مجھے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمه الله سے بہت محبت ہے اور ان کے ہر عقیدہ کو قبول کرتا ہوں، لیکن جب وہ فرماتے ہیں کہ اولیائے کرام کے مزارات کو ہاتھ نہیں لگانا چاہیے تو یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے۔ آج کے کسی بھی عالم یا مفتی کے پاس بھی اس کا جواب نہیں کہ کیوں نہیں چھو سکتے؟
(جواب) سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ امام اہل سنت رحمه الله کا کوئی بھی حکم محض ذاتی رائے پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ قرآن وسنت آثارِ صحابہ و تابعین اور فقہائے امت کے اصولوں پر مبنی ہوتا ہے۔ اور یہ بات صحیح نہیں ہے کہ کسی عالم یا مفتی کے پاس اس کا جواب نہیں ہے کہ قبور اولیاء رحمة الله عليهم کو کیوں نہیں چھو سکتے۔ خود فتاوی رضویہ (٤٧٥/٣٣) میں روضہء نبوی ﷺ کی دیوار کریم کو ہاتھ لگانے اور اسے چومنے کے بارے میں ہے بوسہ میں اختلاف ہے اور چھونا چمٹنا اس کے مثل اور احوط منع اور علت خلاف ادب ہونا۔ اھـ اس عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ دیوار اقدس ﷺ کو بوسہ لینے کے جواز میں علماء کے بیچ اختلاف ہے اور اسے چومنے اور اس سے چمٹنے کے جواز کا بھی یہی حال ہے کہ اس میں بھی فقہاء کا اختلاف ہے لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ اس سے بچا جائے اور اس احتیاط کی وجہ یہ ہے کہ یہ ادب کے خلاف ہے۔ دوسری جگہ اولیاء کی قبور کو بوسہ لینے کے متعلق فرمایا فی الواقع بوسہ قبر میں علماء کا اختلاف ہے۔اور تحقیق یہ ہے کہ وہ ایک امر ہے دو چیزوں داعی ومانع کے درمیان دائر، داعی محبت ہے اور مانع ادب تو جسے غلبہ محبت ہو اس سے مواخذہ نہیں کہ اکابر صحابہ رضی الله تعالی عنهم سے ثابت ہے اور عوام کے لئے منع ہی احوط ہے۔ ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مزار اکابر سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہو پھر تقبیل کی کیا سبیل۔ (فتاوی رضویہ، ٤٠٣/٢٢) یعنی قبور اولیاء کو بوسہ لینا اگر محبت کے غلبے کی وجہ سے ہے تو اس کا حکم اور ہے کیونکہ اکابر صحابہ سے ثابت ہے البتہ عوام کو چاہیے کہ بوسہ لینے سے احتیاط کریں اور کم از کم قبور سے چار ہاتھ دور کھڑے رہیں۔ عوام میں سوء ادب کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے فی زمانہ بہت سے لوگ جذبات میں آکر قبر پر زور سے ہاتھ مارتے ہیں، لپٹتے ہیں آنسو اور رال گراتے ہیں اور ایسے دیگر افعال کرتے ہیں جو تعظیم کے بجائے خلافِ ادب شمار ہوتے ہیں۔ اور خواص کو بھی یہی چاہیے کہ عوام کی تعلیم کے لیے قبروں کو ہاتھ نہ لائیں نہ بوسہ دیں۔ والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
