مساجد میں غیر مستند اشتہارات لگانے کا حکم؟



(سوال) اکثر مساجد میں اشتہار لگایا جاتا ہے اور عوام میں یہ عمل رائج ہے کہ ہر اسلامی مہینے کا نیا چاند دیکھ کر مخصوص سورت (مثلاً سورۂ قدر) پڑھی جائے، یا کسی خاص چیز مثلاً مسلمان مرد کے چہرے کو دیکھا جائے، تو جنت ملے گی یا پورا مہینہ خوشگوار گزرے گا۔ کیا یہ معمولات شریعت سے ثابت ہیں؟ کیا مرد وعورت سب اس پر عمل کر سکتے ہیں؟ اور اس پر اصرار کرنا کیسا ہے؟

(جواب) نئے چاند کے موقع پر حضور ﷺ سے مخصوص دعا پڑھنا ثابت ہے، لیکن ہر اسلامی مہینے کے چاند پر مخصوص سورت پڑھنے کسی خاص شخص یا چیز کو دیکھنے یا اس پر مخصوص فضائل (مثلاً جنت کی ضمانت یا پورا مہینہ خوشگوار گزرنے) کا اعتقاد رکھنا قرآن صحیح احادیث یا معتبر کتبِ فقہ سے ثابت نہیں لہٰذا ان اعمال کو سنت یا ضروری سمجھ کر عوام میں رائج کرنا یا ان پر اصرار کرنا ناجائز وگناہ ہے البتہ اگر کوئی شخص کسی جائز ذکر یا تلاوت کو مطلق نفل عبادت کی نیت سے بغیر کسی غیر ثابت فضیلت کا عقیدہ رکھے کر لے تو اس میں حرج نہیں مگر اسے شریعت سے ثابت معمول قرار دینا یا اس کی مخصوص فضیلت بیان کرنا جائز نہیں مساجد کو دین کی صحیح اشاعت کے لیے استعمال ہونا چاہیے ایسی باتیں یا اشتہارات مساجد میں لگانا جن کی کوئی شرعی بنیاد نہیں عوام کو گمراہی اور توہم پرستی میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے مسجد کی انتظامیہ اور ائمہ کرام پر لازم ہے کہ وہ ایسے غیر مستند اور خود ساختہ اشتہارات کو مساجد سے ہٹائیں۔والله تعالى أعلم بالصواب

کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی ممبئی مہاراشٹر انڈیا

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0