(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک سید صاحب نے بموقعِ شادی نکاح پڑھایا، پھر مقامی امام صاحب سے کہا کہ رجسٹر یعنی سندِ نکاح میں نکاح پڑھانے والے کی جگہ آپ اپنا نام تحریر کردیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس طرح کا معاملہ کہ ایک شخص نکاح پڑھائے اور دوسرا شخص نکاح پڑھانے والے کی جگہ اپنا نام درج کرے، صحیح ہے یا نہیں؟
(جواب) نکاح کا اصل مدار ایجاب و قبول گواہوں اور شرائطِ نکاح کے پائے جانے پر ہے۔ لہٰذا اگر شرعی تقاضوں کے مطابق نکاح منعقد ہوگیا تو نکاح درست ہوجائے گا اگرچہ بعد میں نکاح نامہ یا رجسٹر میں کسی دوسرے شخص کا نام لکھ دیا جائے تاہم حقیقت کے خلاف اندراج کرنا جبکہ حقیقت یہ ہو کہ نکاح کسی اور نے پڑھایا تھا اور رجسٹر میں دوسرے کا نام درج کردیا جائے، یہ خلافِ واقع اور خلافِ دیانت عمل ہے جس سے احتراز لازم ہے
اور حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ (صحیح مسلم، م: ٢٦٠٧) لہذا اگر کسی قانونی تنظیمی یا انتظامی ضرورت کے بغیر محض رسمی طور پر دوسرے شخص کا نام لکھا جائے، تو یہ جائز نہیں ہے البتہ اگر کسی مجبوری یا متعین ادارہ جاتی اصول کے تحت اندراج کرنے والا مجاز نمائندہ ہو اور یہ بات واضح ومعلوم ہو کہ اصل عاقد کون تھا، تو اس کی گنجائش ہے والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
