السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ
مسئلہ: السلام وعلیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے ک بارے میں قیامت جب آئیگی تو چالیس دنوں بارش ہوگی دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
المستفی حافظ محمد معروف رضا اسماعیلی شہر/ملک: لکھنو
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
صورتِ مسئولہ میں یہ بات درست ہے کہ قیامت سے پہلے ایک وقت آسمان سے بارش نازل ہوگی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ لوگوں کے اجسام کو دوبارہ پیدا فرمائے گا لیکن یہ کہنا کہ قیامت کے وقت لازماً چالیس دن تک بارش ہوگی اس طرح صحیح حدیث سے قطعی طور پر ثابت نہیں
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
«مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ»
ترجمہ دو صور پھونکے جانے کے درمیان چالیس کا فاصلہ ہوگا صحابۂ کرام نے عرض کیا: کیا چالیس دن؟ فرمایا میں نہیں کہہ سکتا عرض کیا چالیس مہینے؟ فرمایا میں نہیں کہہ سکتا عرض کیا چالیس سال؟ فرمایا میں نہیں کہہ سکتا پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا جس سے لوگ اس طرح اُگیں گے جیسے سبزہ اُگتا ہے
(صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، حدیث 2955؛ صحیح بخاری)
لہٰذا بارش کا نزول اور اس کے ذریعے اجسام کا دوبارہ اُگنا صحیح حدیث سے ثابت ہے، لیکن صحیح مسلم کی مذکورہ روایت میں چالیس کی تعیین دنوں کے طور پر نہیں ہوئی
اور حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مرآۃ المناجیح میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے بیان فرمایا ہے کہ دوسری روایات میں چالیس سال کا ذکر وارد ہوا ہے اور اس پانی سے انسانی اجسام دوبارہ نشوونما پائیں گے
لہٰذا خلاصہ یہ ہےقیامت کے قریب آسمان سے پانی نازل ہوگا اور اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مردوں کے اجسام کو دوبارہ پیدا فرمائے گا یہ صحیح احادیث سے ثابت ہے مگر چالیس دن مسلسل بارش ہوگی کہنا بغیر تفصیل کے درست نہیں
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار انڈیا
