(سوال) ایک شادی شدہ بالغ عورت کے ساتھ اس کا سسر بے حیائی کی حرکتیں کرتا ہے۔ ایک ہی پلیٹ میں زبردستی کھانا کھاتا ہے، اپنے ہاتھ سے کھلانے کی کوشش کرتا ہے، اسے پکڑ کر اپنے اوپر بٹھانے اور لٹانے کی کوشش کرتا ہے، اور عورت کے بیان کے مطابق اس نے زنا کی بھی پوری کوشش کی، مگر وہ بچ گئی۔ بعد میں شوہر نے بھی فون پر اپنے والد کی یہ باتیں سن لیں۔ ایسی صورت میں کیا حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی؟ اب وہ عورت کیا کرے؟
(جواب) حرمتِ مصاہرت صرف جماع ہی سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ اگر شہوت کے ساتھ بلا حائل چھونا، گلے لگانا، بوسہ لینا، یا دیگر وہ صورتیں پائی جائیں جنہیں فقہائے کرام نے سببِ حرمت قرار دیا ہے، تو بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے۔ البتہ شہوت سے مراد صرف دل کا میلان نہیں، بلکہ جوان کے حق میں ایسا چھونا ہے جس سے آلہ میں انتشار پیدا ہو یا پہلے سے موجود انتشار میں اضافہ ہو، اور بوڑھے یا عورت کے حق میں دل کی شہوانی کیفیت پیدا ہونا یا بڑھ جانا ہے۔ اگر چھونے کے وقت شہوت نہ تھی اور بعد میں پیدا ہوئی تو حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی نیز اگر چھونے یا نظر کے وقت انزال ہو جائے تو اس سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی لہٰذا سوال میں مذکور واقعہ میں اگر واقعی سسر نے شہوت کے ساتھ عورت کو چھوا گلے لگایا یا ایسی کوئی صورت پیش آئی جو فقہائے کرام کے بیان کردہ اسبابِ حرمت میں داخل ہے تو حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی تاہم چونکہ اس کا فیصلہ واقعہ کی مکمل کیفیت، شہوت کی موجودگی اور دیگر شرعی تفصیلات پر موقوف ہے، اس لیے محض ایک مختصر سوال کی بنیاد پر قطعی فتویٰ نہیں دیا جا سکتا۔ اس معاملہ کو تمام تفصیلات کے ساتھ کسی مستند دارالافتاء کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ شرعی اصولوں کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔ والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
