(سوال) اجر ثواب اور جزا کی تعریف کیا ہے؟ ان تینوں میں کیا فرق ہے؟
(جواب)جزاء اس بدلے کو کہتے ہیں جو کسی نیک عمل کے صلے میں الله تعالی اپنے فضل وکرم سے عطا فرمائے۔ الله تعالى فرماتا ہے إِنَّ الله لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ یعنی بیشک الله نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتا (القرآن الکریم ١٢٠/٩) اور ثواب نیک اعمال پر ملنے والے اس خیر اور انعام کو کہتے ہیں جو الله تعالیٰ اپنے بندے کے لیے آخرت میں ذخیرہ فرماتا ہے۔ گویا ثواب اجر ہی کی ایک صورت ہے مگر اس میں اخروی نفع کا مفہوم نمایاں ہوتا ہے۔ اور جزا ہر عمل کے بدلے کو کہتے ہیں، خواہ وہ اچھا ہو یا برا وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا یعنی اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے۔ (القرآن الکریم ٤٠/٤٣)والله تعالى أعلم بالصواب
کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی
(سوال) زید نے اپنی دکان کا تمام مال اور نقد رقم اپنے تین بیٹوں کو بطورِ ہبہ دے دی۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ ہبہ شرعاً صحیح ہے؟ اس واقعہ کو نو سال گزر چکے ہیں۔ اب اس دکان سے جو آمدنی ہوئی اور اس آمدنی سے جو جائیداد خریدی گئی، اس کا مالک کون ہوگا؟
(جواب) اگر زید نے اپنی زندگی میں دکان کا مال اور نقد رقم اپنے تینوں بیٹوں کو زبانی ہبہ کرلے انہیں اس پر قبضہ بھی دے دیا تھا، تو شرعاً یہ ہبہ صحیح ہے۔ ایسی صورت میں ہبہ کی ہوئی چیزوں کے مالک وہی تینوں بیٹے ہوں گے، اور ان چیزوں سے حاصل ہونے والی آمدنی اور اس آمدنی سے خریدی گئی جائیداد بھی انہی کی ملک شمار ہوگی۔
البتہ اگر صرف زبانی طور پر ہبہ کا اعلان کیا تھا، مگر قبضہ نہیں دیا، یا دکان اور مال بدستور زید ہی کے قبضہ وتصرف میں ہے، تو ہبہ تام نہیں ہوا۔ ایسی صورت میں اصل مال اس کی آمدنی اور اس آمدنی سے خریدی گئی جائیداد زید ہی کی ملک شمار ہوگی۔ والله تعالى أعلم بالصواب
کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی
