چھ نمازوں سے کم قضا ہوں تو ترتیب کا کیا حکم؟


 چھ نمازوں سے کم قضا ہوں تو ترتیب کا کیا حکم ہے؟

السلام علیکم خیریت طرفین نیک مطلوب 

 اگرکتنے وقت کی قضاء نماز ہوں تو پہلے قضاء پڑھنے کے بعد ہی پھر باقی وقت کی نماز پڑھنے کی اجازت ہے اور ترتیب وغیر ترتیب کے لئے بھی کیا حکم ہوگا

المستفی محمد شوکت علی دھولیہ مہاراشٹر

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ 

الجواب بعون الملک الوہاب

صورتِ مسئولہ میں اگر کسی شخص کی نمازیں قضا ہوگئی ہوں تو فقہِ حنفی میں قضا نمازوں اور موجودہ وقت کی نماز کے درمیان ترتیب کا حکم اس طرح ہے

اگر کسی شخص کی چھ وقت کی نمازوں سے کم نمازیں قضا ہوں یعنی ایک سے پانچ نمازیں قضا ہوں تو وہ صاحبِ ترتیب ہے اس پر لازم ہے کہ موجودہ نماز کا وقت تنگ نہ ہو تو پہلے قضا نماز ادا کرے پھر موجودہ وقت کی نماز پڑھے

مثلاً کسی شخص کی فجر اور ظہر کی نماز قضا ہوگئی اور عصر کا وقت آگیا تو پہلے فجر کی قضا پھر ظہر کی قضا اور اس کے بعد عصر کی نماز ادا کرے۔ قضا نمازوں میں بھی سابقہ نماز کو بعد والی نماز سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے

اور اگر چھ وقت کی نمازیں قضا ہوجائیں تو کثرتِ فوائت کی وجہ سے ترتیب ساقط ہوجاتی ہے اب قضا نمازوں کو کسی خاص ترتیب سے پڑھنا لازم نہیں اور موجودہ وقت کی نماز سے پہلے قضا پڑھنا بھی لازم نہیں بلکہ جس نماز کو چاہے پہلے ادا کرسکتا ہے

البتہ اگر چھ سے کم نمازیں قضا ہوں اور موجودہ نماز کا وقت اتنا تنگ ہو کہ پہلے قضا نماز پڑھنے سے موجودہ نماز کا وقت نکل جائے گا، تو پہلے موجودہ وقت کی نماز ادا کرے پھر قضا نماز پڑھے

اسی طرح اگر قضا نماز یاد نہ رہی اور بھول کر موجودہ نماز پڑھ لی تو بھی ترتیب کا حکم ساقط ہوجائے گا

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:«والترتیب بین الفوائت القلیلۃ وہی ما دون ست صلوات وبین الوقتیتہ المتسع وقتہا لازم»

یعنی چھ نمازوں سے کم قضا نمازوں اور کشادہ وقت والی موجودہ نماز کے درمیان ترتیب لازم ہے

(فتاویٰ ہندیہ کتاب الصلاۃ)

اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ترتیبِ فوائت کے مسئلہ کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے اور چھ نمازیں فوت ہوجانے کی صورت میں ترتیب کے ساقط ہونے کا حکم ذکر فرمایا ہے

(فتاویٰ رضویہ، جلد 8، ص 40، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

لہٰذا خلاصہ یہ ہے کہ پانچ یا اس سے کم نمازیں قضا ہوں تو صاحبِ ترتیب ہونے کی صورت میں پہلے قضا نماز پڑھی جائے گی، پھر وقت کی نماز؛ اور چھ یا اس سے زیادہ نمازیں قضا ہوجائیں تو ترتیب لازم نہیں رہے گی البتہ وقت تنگ ہونے کی صورت میں پہلے موجودہ وقت کی نماز ادا کی جائے گی

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند

✔️✔️✔️ الجواب الصحیح والمجیب النجیح مولانا شاہد قادری رضوی منظری صاحب قبلہ اتر دیناجپور بنگال

✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار انڈیا 

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق یا نیا سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز (آج کا شیڈول)

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
نوٹ: 1 سے 2 منٹ کی احتیاط ملحوظ رکھیں۔

🧭 سمتِ قبلہ کمپاس

قبلہ رخ: تقریباً 265° مغرب-جنوب
شمال (N)
جنوب (S)
مشرق (E)
مغرب (W)
موبائل کو بالکل سیدھا ہاتھ پر رکھیں۔ لال سوئی کا رخ کعبہ شریف کی سمت کی طرف گھوم جائے گا۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے مال، نقدی اور سونے چاندی کی مالیت درج کریں:

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0