سنت اور نفل ایک سلام سے پڑھنے کا حکم؟



(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ظہر کے بعد کی دو سنت اور دو نفل، نیز مغرب کے بعد کی دو سنت اور دو نفل، کیا ان چار رکعتوں کو ایک ہی سلام کے ساتھ اس طرح پڑھ سکتے ہیں کہ پہلی دو رکعتیں سنتِ مؤکدہ اور آخری دو رکعتیں نفل شمار ہو جائیں؟

(جواب) ظہر مغرب اور عشاء کے فرضوں کے بعد چار رکعتیں ایک ہی سلام کے ساتھ ادا کرنا جائز ہے۔ اس صورت میں پہلی دو رکعتیں سنتِ مؤکدہ اور بعد کی دو رکعتیں نفل (مستحب) ادا ہو جائیں گی البتہ افضل اور زیادہ موافقِ سنت طریقہ یہی ہے کہ پہلے دو رکعت سنتِ مؤکدہ الگ سلام کے ساتھ ادا کی جائیں، پھر دو رکعت نفل الگ سلام کے ساتھ پڑھی جائیں۔ بہار شریعت (٦٦٧/١) میں ہے ظہر ومغرب وعشا کے بعد جو مستحب ہے اس میں سنت مؤکدہ داخل ہے، مثلا ظہر کے بعد چار پڑھی تو مؤکدہ ومستحب دونوں ادا ہوگئیں اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ مؤکدہ و مستحب دونوں کو ایک سلام کے ساتھ ادا کرے، یعنی چار رکعت پر سلام پھیرے۔ والله تعالى أعلم بالصواب 


كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی 

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0