السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ
(سوال) ایک شخص ہے جو جب بھی کوئی معاملہ خراب ہو جاتا ہے یا وہ ناراضی اور افسوس کا اظہار کرتا ہے تو “Jesus Christ”, “Oh Jesus” یا “Christ” جیسے الفاظ کہتا ہے۔ میں اور چند دوسرے لوگ اسے کئی مرتبہ منع کر چکے ہیں کہ وہ یہ الفاظ نہ کہے، لیکن وہ پھر بھی یہی کہتا رہتا ہے اور ہماری بات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس شخص کا کیا حکم اور کیا حیثیت ہے؟
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ
(جواب) مسلمانوں کو اپنی زبان کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے، اور ایسے الفاظ یا اندازِ کلام سے بچنا لازم ہے جو غیر مسلم اقوام کے مذہبی شعائر، کفریہ عقائد یا ان کے مذہبی طرزِ اظہار کی مشابہت رکھتے ہوں Jesus Christ یا Oh Jesus جیسے جملے دراصل عیسائیوں کے مذہبی اور جذباتی اظہار کے طور پر معروف ہیں، اس لیے اگر یہ الفاظ بے سوچے سمجھے کسی مسلمان یا نو مسلم کی زبان پر جاری ہوجائے تو اس کے لیے توبہ ضروری ہے اور سمجھانے کے باوجود قصدا کہنے اور اس پر اصرار کرنے پر اسے تجدید ایمان کا حکم دیا جائے گا کیونکہ یہ کفر ہے۔ حدیث شریف میں ہے: «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ» یعنی “جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے(سنن أبي داود، م: ٤٠٣١)۔ والله تعالى أعلم بالصواب.
⚡⚡⚡⚡
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
