وندے ماترم کہنے اور سائنسی نظریات ماننے کا حکم؟



سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین درج ذیل مسائل کے بارے میں

سوال نمبر ۱: ’’وندے ماترم‘‘ کہنا کفر ہے۔ بعض اسکولوں میں مسلمان بچوں سے زبردستی وندے ماترم کہلوایا جاتا ہے، انکار کرنے پر مارنے اور سب کے سامنے بے عزت کرنے کی دھمکی یا سزا دی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں مسلمان بچے کیا کریں؟ کیا مجبوری میں صرف زبان سے وندے ماترم‘‘ کہنا جائز ہوگا؟


الجواب بعون الملک الوہاب

وندے ماترم ایک مشرکانہ مذہبی شعار پر مشتمل کلام ہے اس لیے مسلمان کا اسے بغیر شرعی اکراہ کے بطورِ تعظیم و تائید کہنا جائز نہیں۔ فقیہِ اہلِ سنت مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ نے وندے ماترم کے متعلق اسے مشرکانہ گیت قرار دیتے ہوئے اس کے کہنے پر سخت حکم بیان فرمایا ہے۔ (فتاویٰ شارح بخاری، جلد 2، ص 598)

البتہ شرعی اکراہ کی صورت میں حکم الگ ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْإِيمَانِ﴾ ترجمہ مگر وہ شخص جسے مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو کلمۂ کفر کہنے پر اس طرح مجبور کیا جائے کہ قتل یا عضو کاٹنے یا ایسی شدید مار کی حقیقی دھمکی ہو جس کے وقوع کا غالب گمان ہو، تو زبان سے کہنے کی رخصت ہے، بشرطیکہ دل ایمان پر قائم ہو؛ تاہم توریہ کی قدرت ہو تو توریہ کرنا چاہیے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 6، ص 484؛ جلد 14، ص 652-653)

لہٰذا محض استاد کی ناراضگی، ڈانٹ وغیرہ یا نمبر کم ہونے کا خوف شرعی اکراہ نہیں۔ لیکن اگر واقعی ایسی شدید اور ناقابلِ برداشت مار کا یقینی یا غالب اندیشہ ہو جسے روکنے پر طالب علم قادر نہ ہو، تو اکراہِ شرعی کی شرائط پائی جانے کی صورت میں زبان سے کہنے کی رخصت ہوگی، دل سے اس مشرکانہ معنی کو ہرگز نہ مانے اور اگر ممکن ہو تو ایسے موقع پر توریہ، خاموشی یا ایسا متبادل لفظ اختیار کرے جس سے مشرکانہ عقیدے کی تائید نہ ہو

سوال نمبر ۲: زمین کی حرکت کا نظریہ

الجواب بعون الملک الوہاب

مسلکِ اعلیٰ حضرت کے مطابق زمین کا ساکن ہونا قرآنِ کریم، احادیث اور آثارِ صحابہ سے ثابت ہے، اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع پر مستقل رسائل تحریر فرمایا

1. نزول آیاتِ فرقان بسکونِ زمین و آسمان

2. معین مبین بہردورِ شمس و سکونِ زمین

3. فوزِ مبین در ردِ حرکتِ زمین

فتاویٰ رضویہ جلد 27 میں اعلیٰ حضرت نے زمین کی حرکت کے رد میں تفصیلی دلائل قائم فرمائے ہیں۔

قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:﴿إِنَّ اللّٰهَ يُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا﴾

ترجمہ: ’’بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائیں

حضور اعلیٰ حضرت نے اس آیت سے زمین کے سکون پر استدلال کیا اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے فہمِ آیت کو بھی بیان فرمایا۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 27، رسالہ نزول آیاتِ فرقان بسکونِ زمین و آسمان)

اسی طرح قرآنِ کریم میں ہے ﴿الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا﴾

یعنی وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اعلیٰ حضرت نے اس آیت کے تحت زمین کے سکون سے استدلال کیا ہے۔

بلکہ فتاویٰ رضویہ میں اعلیٰ حضرت کا صریح ارشاد ہے:

مسلمان پر فرض ہے کہ حرکتِ شمس و سکونِ زمین پر ایمان لائے

(فتاویٰ رضویہ، جلد 27، ص 224)

لہٰذا مسلکِ اعلیٰ حضرت کے مطابق زمین کی محوری یا مداری حرکت کو درست ماننا صحیح عقیدہ نہیں بلکہ قرآن و سنت کے بیان کردہ سکونِ زمین کے خلاف نظریہ ہے

امتحان میں زمین گردش کرتی ہے لکھنے والے طلبہ کا حکم

اگر کوئی بالغ مسلمان جانتے بوجھتے، اعتقاداً اور بغیر کسی شرعی عذر کے زمین کی حرکت کو حق مانتا اور سکونِ زمین کے خلاف عقیدہ اختیار کرتا ہے تو اس کا معاملہ نہایت سنگین ہے؛ اسے محض ’’سائنسی نظریہ‘‘ کہہ کر شرعی حکم سے بے نیاز نہیں کیا جاسکتا

لیکن اگر طلبہ کو اس مسئلہ کا شرعی حکم متعلق علم ہی نہیں تھا اور وہ صرف اسکول کی کتاب میں پڑھا ہوا جواب امتحان میں نقل کر رہا تھا اس اعتقاد کے ساتھ نہیں کہ قرآن و سنت کی تکذیب کی جائے، تو محض اس تحریر کی بنا پر فوراً اسے کافر قرار نہیں دیا جائے گا تکفیر کے لیے اقرار وتصدیق بالقلب ضروری ہے اس کےعلاوہ اس کے مفہوم، اور ضروری شرعی تفصیل کو دیکھا جائے گا

 سمجھ بوجھ رکھنے والا نابالغ بھی بعض احکام میں اسلام کے قوانین کےمکلف ہونگے ضرورتاکفر کے احکام بھی لوگو ہونگے ۔ حضور سرکاراعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے منقول ہے کہ سمجھدار بچہ اگر اسلام کے بعد کفر کرے تو ہمارے نزدیک مرتد ہوگا۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 11، ص 171)

لہٰذا سمجھدار نابالغ کو بھی ایسے عقائد سے بچانا اور صحیح اسلامی عقاٸد کو سمجھانا ضروری ہے

سوال نمبر ۳: کششِ ثقل (Gravity) کا نظریہ

الجواب بعون الملک الوہاب

اس مسئلے میں ایک نہایت اہم تفصیل سمجھنا ضروری ہے

حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے جاذبیت کے متعلق بھی فوزِ مبین میں تفصیلی بحث فرمائی اور جدید ہیئت کے اس نظریے کا رد فرمایا کہ جاذبیت و نافریت کے اجتماع سے اجرامِ سماوی کی گردش ثابت ہوتی ہے۔ فتاویٰ رضویہ جلد 27 میں ’’فصلِ دوم جاذبیت کا رد اور اس سے بطلانِ حرکتِ زمین پر پچاس دلیلیں موجود ہے

لہٰذا مسلکِ اعلیٰ حضرت کے مطابق نیوٹنی نظریۂ جاذبیت کو زمین کی حرکت اور اجرام کی گردش کی علت و سبب قرار دینا درست نہیں

لیکن یہاں یہ فرق ملحوظ رہے کہ کششِ ثقل کے نام سے آج کسی جسم کے دوسرے جسم کی طرف میل یا کشش کا مشاہدہ ہونا اور جاذبیت کو حرکتِ زمین کی علت قرار دینا دو الگ باتیں ہیں۔ خود حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے کسی بحث میں اصل رد اس مخصوص فلسفیانہ دعوے پر جاذبیت و نافریت سے حرکتِ دوریہ ثابت ہوتی ہے

لہٰذا محض اسکول میں Gravity کا لفظ پڑھ لینا یا چیزوں کے زمین کی طرف گرنے کو کشش کہنا خود بخود کفر قرار نہیں دیا جائے گا۔ البتہ اگر کوئی شخص ایسی تعبیر اختیار کرے جو واضح طور پر قرآنِ کریم کے قطعی بیان کی تکذیب یا ضروریاتِ دین کے انکار تک پہونچے تو اس کا حکم الگ ہوگا

حاصلِ جواب

۱۔ ’’وندے ماترم‘‘ کو اس کے مشرکانہ مذہبی معنی کے ساتھ بلا اکراہ کہنا جائز نہیں؛ اور شرعی اکراہ کی حقیقی صورت میں زبان سے کہنے کی رخصت ہے، دل ایمان پر قائم رہے اور حتی الامکان توریہ کیا جائے

۲۔ مسلکِ اعلیٰ حضرت کے مطابق زمین کا سکون حق اور زمین کی محوری و مداری حرکت کا نظریہ باطل و مردود ہے؛ حضوراعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اس پر مستقل رسالہ فوزِ مبین تحریر فرمایا اور فتاویٰ رضویہ میں ’’حرکتِ شمس و سکونِ زمین‘‘ پر ایمان کا ذکر فرمایا چاہیے کہ اسے ملاحظہ کرے

۳۔ زمین کی حرکت کو درست ماننا اور اسے شرعی طور پر ثابت شدہ سکونِ زمین کے خلاف اعتقاد بنانا ایک سنگین معاملہ ہے؛ لیکن کسی طالب علم کے محض امتحانی جواب لکھنے سے، جبکہ اسے شرعی حکم کا علم اور اس عقیدے کا قصد نہ ہو، بلا تحقیق حکمِ کفر نہیں لگایا جائے گا

۴۔ سمجھدار نابالغ کے بارے میں بھی مسلکِ اعلیٰ حضرت کی روشنی میں اسلامی احکام کا اعتبار ہے، لہٰذا اسے بھی عقیدۂ صحیحہ کی تعلیم دی جاۓ

۵۔ جاذبیت کے بارے میں حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے جدید ہیئت کے مخصوص نظریے کا رد فرمایا ہے؛ لہٰذا Gravity کے ہر سائنسی نظریے کو بلا تحقیق ’’کفر‘‘ کہنا درست نہیں۔ اصل دیکھنا یہ ہے کہ قائل کا کیا عقیدہ اور کیا مفہوم ہے

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

 کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند

✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار 

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0