السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ
سوال: جو شخص سید نہ ہو اور اپنے آپ کو سید بتائے اس پر کیا حکم ہوگا؟
المستفی محمد شہاب الدین بہرائچ شریف
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
جو شخص واقع میں سید نہ ہو اور جان بوجھ کر اپنے آپ کو سید ظاہر کرے تو یہ سخت گناہ اور ناجائز ہے، کیونکہ یہ اپنے نسب کو غلط طور پر کسی دوسرے خاندان کی طرف منسوب کرنا ہے
اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں یہ حکم شامل ہے ہر اس شخص کو کہ سید نہیں اور سید بن بیٹھے
اور اسی مقام پر اس حدیثِ پاک کا مضمون نقل فرمایا کہ جو شخص اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف اپنا نسب منسوب کرے اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے فرض و نفل قبول نہیں فرمائے گا
(حوالہ فتاویٰ رضویہ جلد 23 ص 204)
لہٰذا جو شخص حقیقت میں سید نہ ہو اور دروغ و فریب کے طور پر اپنے آپ کو سید کہلوائے وہ سخت گناہ گار ہے اسے اپنے اس جھوٹے دعوے سے توبہ کرنا اور صحیح نسب ظاہر کرنا لازم ہے
البتہ اگر کسی شخص کے سید ہونے یا نہ ہونے کا یقینی علم نہ ہو تو محض شک کی بنا پر اسے جھوٹا نہیں کہا جائے گا کیونکہ نسب کے معاملے میں بلا دلیل کسی مسلمان کی تکذیب کرنا درست نہیں
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار
