السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ
مسئلہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مثلہ ذیل میں کیا وراثت تقسیم کرنے میں جگہ لڑکی اور لڑکے کے نام میں کرنا ضروری ہے یا صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ یہ جگہ لڑکے کی ہے اور یہ جگہ لڑکی کی ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں
سائل: محمد وسیم رضا شہر/ملک: بریلی شریف
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
وراثت میں ہر وارث کو اس کا شرعی حصہ دینا لازمی ہے صرف زبانی طور پر یہ کہہ دینا کہ یہ جگہ لڑکے کی ہے اور یہ لڑکی کی کافی نہیں بلکہ جملہ وراثتی مال کا حصہ شریعت مطہرہ کی روشنی میں متعین کرکے جائیداد کی باقاعدہ تقسیم اور ہر وارث کو اس کے حصے کا قبضہ دینا ضروری ہے نام کرنا ضروری نہیں
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ
﴿لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾
ترجمہ مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے
(سورۃ النساء آیت 7)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں قابلِ تقسیم چیز پر قبضہ دینے سے بھی ہبہ تام نہ ہوگا خواہ اس میں شرکت والے کو ہبہ دے
(فتاویٰ رضویہ، جلد 19، ص 275)
لہٰذا شرعی حصے مقرر کرکے باقاعدہ تقسیم کرنا ضروری ہے، محض زبانی تعیین کافی نہیں
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار
