(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اکثر مساجد میں لوگ فرج لگوا دیتے ہیں ٹھنڈے پانی کے لیے یا پنکھا لگوا دیتے ہیں یا مائک لگوا دیتے ہیں اذان دینے کے لیے اور پھر چھوڑ دیتے ہیں اس طرف دیکھتے نہیں وہ چیز صحیح ہے یا نہیں ہے پھر خراب ہو رہی ہے یا نہیں، اب ان چیزوں کے متعلق کوئی شخص سوال کرتا ہے کہ پانی ٹھنڈا نہیں کر رہا ہے تو سامنے والا شخص کہتا ہے: یہ تو پیپا ہے خالی، اس کا اسٹیبلائزر بھی نہیں ہے، اس کی کوئی دیکھ بھال بھی نہیں کر رہا ہے۔ اور مائک کے بارے میں پوچھتا ہے: مائک کیسا ہے؟ تو کہتا ہے: مائک تو کھٹارہ ہو گیا، پرانا ہو گیا ہے، اس کی آواز بھی صحیح سے نہیں آتی۔ تو ان الفاظ سے کہنے والے پر کوئی حکم نہیں ہوگا؟ اس بندے کی نیت ایسی نہیں ہوتی کہ وہ مسجد کی چیزوں کی بے عزتی کرے، بس اس طریقے سے جملے نکل جاتے ہیں لوگ کہہ دیتے ہیں، تو کیا ان جملوں پر کوئی شرعی گرفت ہوگی؟
(جواب) پوچھی گئی صورت میں اگر واقعی مقصود مسجد یا شعائرِ مسجد کی توہین نہ ہو، بلکہ محض کسی چیز کے خراب، پرانے یا ناقص ہونے کی خبر دینا ہو تو ایسے جملوں سے کفر یا شرعی مواخذہ لازم نہیں آئے گا البتہ مسجد سے متعلق اشیاء چونکہ دینی کاموں میں استعمال ہوتی ہیں اس لیے ان کے بارے میں بے ادبی حقارت یا غیر مناسب اندازِ گفتگو سے بچنا ضروری ہے لہٰذا یہ مائک خراب ہے آواز صحیح نہیں آ رہی فریج ٹھنڈا نہیں کر رہا جیسے مہذب الفاظ استعمال کرنے چاہییں جبکہ کھٹارہ پیپا وغیرہ ایسے الفاظ اگر عرف میں تحقیر اور بے ادبی پر دلالت کریں تو ان سے اجتناب بہتر ومناسب ہے، خصوصاً جب وہ مسجد کی اشیاء کے بارے میں کہے جائیں نیز مسجد انتظامیہ پر بھی لازم ہے کہ مسجد کے وقف شدہ سامان کی حفاظت، مرمت اور دیکھ بھال کا اہتمام کرے، کیونکہ یہ امانت اور حقوقِ مسجد میں داخل ہے۔ والله تعالى أعلم بالصواب
⚡⚡⚡⚡
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
