مسجد نبوی میں چالیس نمازوں کی فضیلت؟



(سوال) مسجد نبوی شریف میں چالیس نمازیں پڑھنے کی حدیث شریف کے اس جز «لَا يَفُوتُهُ صَلَاةٌ» (یعنی اس کی ایک نماز بھی فوت نہ ہو) کے تحت شارحینِ حدیث نے کیا ارشادات فرمائے ہیں؟ اس فرمان کی وضاحت مطلوب ہے۔ بینوا تؤجروا۔

(جواب) حدیثِ مبارک میں وارد «لَا يَفُوتُهُ صَلَاةٌ» کی صریح تشریح کتبِ شروحِ حدیث میں نہیں مل سکی تاہم یہی فضیلت مسجد میں چالیس نمازیں باجماعت ادا کرنے کے بارے میں بھی مروی ہے جن میں بعض روایات میں تکبیرِ اولیٰ پانے اور بعض میں پہلی رکعت پانے کی قید مذکور ہے۔ اس بنا پر جس شخص کو مدینہ منورہ میں آٹھ دن یا اس سے زیادہ قیام کا موقع میسر ہو اور صحیح العقیدہ امام مسیر ہو تو وہ صرف فرض نمازوں کی پابندی کے ذریعے چالیس نمازیں مکمل کرے اور جس کا قیام مختصر ہو وہ اس فضیلت کی امید پر فرض نمازوں کے ساتھ سنتِ مؤکدہ اور وتر کو بھی شامل کرکے چالیس نمازوں کی تعداد پوری کر لے۔ حسین بن محمد الورثیلانی لکھتے ہیں: ولفظ الصلاة وإن كان شاملا للفرائض والنوافل فالظاهر من الحديث خصوص تلك بالفرائض بدليل زيادة الطبراني لأن الفوات فيها أظهر ولا يبعد إلحاق النوافل الموقته بأوقات معلومة بها كالوتر وركعتي الفجر وأن ألحقت بها الرواتب أيضا والضحى والتهجد خصوصا عند من لا يرى التحديد فيها كالإمام مالك رضي اللّه عنه اتسع الفضل ورجي حصول ذلك الفضل لمن أقام ولو يوما واحدا وحافظ على تلك الصلوات في المسجد النبوي كحجاج المغرب فإنهم في بعض السنين لا يقيمون إلا يوما واحدا فليتنبه لهذه الدقيقة وليحافظ عليها من قصرت إقامته بالمدينة ليحصل له هذا الفضل العظيم الذي فيه خير الدنيا والآخرة وأما من تطول إقامته بالمدينة ثمانية أيام فإنه يحصل له هذا الفضل بالفرائض دون النوافل. (نزهة الأنظار، ص: ٤٦٦) یعنی اگرچہ لفظ نماز فرض اور نفل دونوں کو شامل ہے، لیکن بظاہر اس حدیث سے مراد فرض نمازیں ہیں کیونکہ طبرانی کی روایت میں "کوئی نماز فوت نہ ہو" کی قید آئی ہے، اور نماز فوت ہونے کا اطلاق زیادہ تر فرض نمازوں پر ہوتا ہے البتہ بعید نہیں کہ مقررہ اوقات والی بعض نفل نمازیں بھی اس میں شامل ہوں، جیسے وتر اور فجر کی دو سنتیں بلکہ اگر رواتب اشراق چاشت اور تہجد کو بھی اس میں شامل کر لیا جائے خصوصاً ان حضرات کے نزدیک جو ان میں تحدید کے قائل نہیں جیسے امام مالک، تو اس فضیلت کا دائرہ اور بھی وسیع ہو جاتا ہے۔ اسی بنا پر امید کی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی شخص مدینہ میں صرف ایک دن بھی قیام کرے اور ان نمازوں کی پابندی مسجد نبوی میں کرے تو اسے بھی اس فضیلت میں حصہ مل جائے۔ مثلاً مغرب (شمالی افریقہ) کے بعض حجاج بعض اوقات صرف ایک دن مدینہ میں ٹھہرتے ہیں لہٰذا انہیں اس نکتے پر توجہ دینی چاہیے اور اپنے مختصر قیام میں حتی الامکان مسجد نبوی کی نمازوں کی پابندی کرنی چاہیے تاکہ دنیا و آخرت کی اس عظیم فضیلت سے محروم نہ رہیں۔ اور جو لوگ آٹھ یا اس سے زیادہ دن مدینہ میں قیام کرتے ہیں ان کے لیے یہ فضیلت فرض نمازوں کے ذریعے آسانی سے حاصل ہو جاتی ہے والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی 

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0