سوال: ایک مسلمان اگر کسی ہندو یا غیر مسلم کے کہنے پر خنزیر ذبح کر دے تو شریعت کی رو سے کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب
خنزیر ناپاکِ عین ہے اور شریعتِ مطہرہ نے اس کے گوشت کو صرف حرام نہیں بلکہ انتہائی گھناؤنی و ناپاک چیز قرار دیا ہے لہٰذا مسلمان کے لیے خنزیر کو ہاتھ لگانا، پکڑنا ذبح کرنا اس کی خدمت کرنا یا اس سے متعلق کوئی بھی کام کرنا قطعی حرام اور سخت گناہِ کبیرہ ہے غیر مسلم کے کہنے پر کرنا بھی حرام ہی ہے کیونکہ معصیت میں کسی کی اطاعت جائز نہیں
اللہ تعالیٰ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ (البقرۃ: 173)
جب اللہ نے اس کے گوشت کو حرام فرمایا تو اسے ذبح کرنا اور اس کے لیے کام کرنا بدرجہٴ اولیٰ حرام ہوا
درمختار میں ہے وَيَحْرُمُ بَيْعُ الخِنزِيرِ وَالانتِفَاعُ بِهِ (درمختار مع رد المحتار، جلد 6)
یعنی خنزیر کی خرید و فروخت اور اس سے کسی بھی طرح کا فائدہ اٹھانا حرام ہے جب بیع و انتفاع حرام ہے تو اسے ذبح کرنا بھی بدرجہٴ اَولیٰ حرام ہے
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسلمان کا خنزیر کاٹنا خواہ کسی ہندو یا غیر مسلم کے کہنے پر ہی کیوں نہ ہو سخت حرام ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہےایسا کرنے والا گناہگار ہوگا اور اس پر توبۂ نصوح لازم ہے
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار
