مستقل امام کی موجودگی میں امامت کا حکم؟



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ

(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ امام صاحب جماعت کے وقت سے تقریباً دو منٹ تاخیر سے آئے۔ اس دوران صف میں موجود ایک شخص آگے بڑھ کر مصلے پر بیٹھ گیا جیسے ہی تکبیر ہوئی، امام صاحب تشریف لے آئے اور اس شخص کو ہٹا کر خود امامت کرائی اب وہ شخص کہتا ہے کہ جو ایک مرتبہ مصلے پر بیٹھ جائے، پھر اسے ہٹایا نہیں جاتا کیا اس کا یہ کہنا درست ہے یا نہیں؟

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ 

(جواب) اگر مسجد کا مستقل امام موجود ہو اور اس کی آمد کی امید ہو، اور تاخیر بھی معمولی ہو، تو اس کے آنے سے پہلے کسی دوسرے شخص کا بلا ضرورت امامت کے لیے آگے بڑھ جانا مناسب نہیں۔ جب مستقل امام آ جائے تو وہی امامت کا زیادہ حق دار ہے لہٰذا اس کا آگے آکر امامت کرانا درست ہے صرف مصلے پر بیٹھ جانے سے کسی شخص کو امامت کا ایسا حق حاصل نہیں ہو جاتا کہ مستقل امام بھی اسے نہ ہٹا سکے۔ لہٰذا سوال میں مذکور شخص کا یہ کہنا کہ "جو مصلے پر بیٹھ جائے پھر اسے ہٹایا نہیں جاتا شرعاً درست نہیں والله تعالى أعلم


كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0