سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ شریعت کے مطابق نکاح ہوگیا، لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ اب اگر شوہر طلاق دے دے تو کیا لڑکی کو حقِ مہر دینا ہوگا یا نہیں؟
الجواب بعون الملک الوہاب
صورتِ مسئولہ میں حکم یہ ہے کہ محض رخصتی نہ ہونے سے مہر ساقط نہیں ہوتا بلکہ اس میں خلوتِ صحیحہ اور ازدواجی تعلق کی تفصیل ہے
اگر نکاح کے وقت مہر مقرر ہوچکا تھا اور رخصتی سے پہلے طلاق ہوگئی، نیز نہ ازدواجی تعلق قائم ہوا اور نہ خلوتِ صحیحہ ہوئی تو شوہر پر مقررہ مہر کا آدھا مہر ادا کرنا واجب ہے
اور اگر ازدواجی تعلق قائم ہوچکا تھا یا خلوتِ صحیحہ ہوگئی تھی تو پورا مہر واجب ہوگا اگرچہ باقاعدہ رخصتی نہ ہوئی ہو
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
﴿وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ﴾
ترجمہ اور اگر تم نے عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دی حالانکہ تم ان کے لیے مہر مقرر کرچکے تھے تو مقررہ مہر کا آدھا لازم ہے
(القرآن الکریم سورۃ البقرۃ آیت 237)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار
