السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ
السؤال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ساڑھو کے بھائی کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کرنا کیسا ہے؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی فقط والسلام المستفی محمد ریحان رضا
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
ساڑھو کے بھائی کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ نکاح کی حرمت کا کوئی دوسرا سبب مثلاً نسب رضاعت یا کوئی اور شرعی مانع موجود نہ ہو کیونکہ محض ساڑھو کا بھائی ہونا حرمتِ نکاح کا سبب نہیں ہے
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ﴾
ترجمہ کنز الایمان: تم پر حرام ہوئیں تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں
(القرآن الکریم سورۃ النساء آیت ۲۳)
مذکورہ آیت میں بیان کردہ محرم رشتوں میں ساڑھو کا بھائی شامل نہیں لہٰذا اگر کوئی دوسرا شرعی مانع موجود نہ ہو تو اس سے نکاح جائز ہے
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار
