السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ حضرت امام کے پیچھے جو مقتدی کھڑے ہوتے ہیں تو کسی مجبوری کے تحت ہلکے اور بھاری ہو سکتے ہیں کیا مطلب ایک طرف کم ایک طرف زیادہ ہو سکتے ہیں کیا
المستفی محمد عثمان رضا الھند
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
صورتِ مسئولہ میں اگر امام کے پیچھے مقتدی کھڑے ہوں اور کسی مجبوری کی وجہ سے امام کے دائیں جانب مقتدی زیادہ اور بائیں جانب کم ہوجائیں یا اس کے برعکس تو نماز درست ہے البتہ بلا عذر صف کو اس طرح غیر متوازن رکھنا خلافِ سنت ہے۔ اگر واقعی کوئی مجبوری ہو تو کوئی حرج نہیں
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ صف میں مقتدیوں کو امام کے دونوں جانب حتی الامکان مناسب طور پر کھڑا کیا جائے (فتاویٰ رضویہ جلد 7)
لہٰذا ایک طرف کم اور دوسری طرف زیادہ مقتدی ہونے سے نماز فاسد نہیں ہوتی اور مجبوری کی صورت میں کوئی گناہ بھی نہیں
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار
