السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ
(سوال) کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ میرا شوہر ایک شیعہ عورت کی محبت میں گرفتار ہے اور اس کے عقائد سے متاثر ہورہا ہے، اس عورت کو اپنا مرشد اور سرکار کہتا ہے، کیا میں ایسے شخص سے زوجیت کا تعلق رکھ سکتی ہوں؟
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ
(جواب) محض کسی شیعہ عورت سے محبت یا اسے اپنا مرشد وسرکار کہنے سے نکاح ختم نہیں ہوتا، نہ ایسی صورت میں آپ کو لا تعلق ہونا چاہیے کہ نیک بیوی ضرور اصلاح کا ذریعہ ہوتی ہے جیسے غلیظ عورت بداخلاقی بڑھانے کا۔ ہاں، اگر اس نے کفریہ عقائد اختیار کر لیے ہیں تو نکاح ختم ہوگیا، آپ کے علم میں آتے ہی آپ پر فرض ہے کہ اس سے الگ ہوجائیں اور اگر گمراہی کی حد تک ہی عقائد بگڑے ہوں اور آپ کو اندیشہ ہے کہ آپ کے عقیدے سیاہ ہوجائیں گے اور آپ مبتلائے فتنہ ہوں گے تو علیحدگی کی کوشش واجب ہے بہرحال آپ اسے اصلاح کے لیے اپنے رشتے داروں کے ذریعے امام مسجد یا کسی عالم کے پاس پہنچائیں۔ الله تعالى اسے ہدایت دے آمین والله تعالى أعلم. بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
