طلاقِ مغلظہ کے بعد بچے کے نسب کا حکم؟

 


سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ خالدہ کو اس کے شوہرِ اوّل نے طلاقِ مغلظہ دے دی۔ خالدہ نے عدت گزارنے کے بعد شوہرِ اوّل کی طرف لوٹنے کی غرض سے دوسرے شخص سے نکاح کیا۔ شوہرِ ثانی سے ازدواجی تعلق کے بعد خالدہ کو حمل ٹھہر گیا۔ اب حاملہ ہونے کی وجہ سے اس کی عدت وضعِ حمل تک ہوگی، تو جو بچہ پیدا ہوگا وہ شوہرِ اوّل کا ہوگا یا شوہرِ ثانی کا؟

المستفی غلام محی الدین قادری 

الجواب بعون الملک الوہاب

صورتِ مسئولہ میں اگر شوہرِ اوّل سے طلاقِ مغلظہ واقع ہونے کے بعد خالدہ نے اس کی عدت پوری کرلی، پھر شوہرِ ثانی سے صحیح نکاح کیا اور اس نکاح کے بعد شوہرِ ثانی سے وطی ہوئی اور اسی سے حمل قرار پایا تو پیدا ہونے والا بچہ شوہرِ ثانی ہی کی طرف منسوب ہوگا، شوہرِ اوّل کی طرف نہیں

اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ اس شخص کی طرف منسوب ہوتا ہے جس کا شرعی نکاح کے اعتبار سے فراش موجود ہو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا

«اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ»

ترجمہ: بچہ صاحبِ فراش کا ہے اور زانی کے لیے محرومی ہے

(صحیح البخاری، کتاب الفرائض، باب الولد للفراش)


اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے نسب کے مسائل میں اسی حدیثِ پاک کو اصل قرار دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ فراشِ نکاح قائم ہونے کی صورت میں بچہ شوہر ہی کی طرف منسوب ہوگا۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے:

«الولد للفراش وللعاهر الحجر»

اور اسی کے تحت اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے واضح فرمایا کہ نکاح موجود ہونے کی صورت میں ثبوتِ نسب کے لیے فراش کا اعتبار کیا جاتا ہے

(فتاویٰ رضویہ جلد 13 ص 379)

لہٰذا یہاں چونکہ شوہرِ اوّل سے طلاقِ مغلظہ کے بعد اس کی عدت بھی مکمل ہوچکی تھی، پھر شوہرِ ثانی سے صحیح نکاح ہوا اور اسی شوہر سے حمل قرار پایا، اس لیے بچے کا نسب شوہرِ ثانی سے ثابت ہوگا

رہی حاملہ عورت کی عدت تو قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾

ترجمہ: اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضعِ حمل تک ہے

(سورۃ الطلاق آیت 4)

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے بھی عدت اور نسب کے ایک مسئلہ میں اسی آیتِ کریمہ اور حدیثِ «الولد للفراش» سے استدلال فرمایا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 13 ص 326)

خلاصہ: اگر خالدہ کا حمل شوہرِ ثانی سے نکاح و وطی کے بعد قرار پایا ہے تو پیدا ہونے والا بچہ شوہرِ ثانی کا شرعی بچہ ہوگا، شوہرِ اوّل کا نہیں شوہرِ اوّل سے اس بچے کا نسب ثابت نہیں ہوگا

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند

✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار 

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0