(سوال) اگر کوئی لڑکی کسی مرد سے حرام تعلقات قائم کرلے اور اس کے نتیجے میں حمل ٹھہر جائے، پھر بعد میں اسی مرد کے ساتھ اس کا نکاح ہوجائے اور ان کے درمیان جائز ازدواجی تعلق قائم ہوجائے، تو اس حمل اور پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
(جواب) اگر بچہ نکاح کے بعد کم از کم چھ ماہ گزرنے کے بعد پیدا ہو تو شرعاً اس کا نسب شوہر سے ثابت ہوگا، وہ اسی کا بچہ شمار ہوگا، اس کے لیے وراثت نفقہ اور دیگر تمام احکامِ نسب ثابت ہوں گے۔ اور اگر بچہ نکاح کے بعد چھ ماہ سے کم مدت میں پیدا ہو تو اس کا نسب خود بخود شوہر سے ثابت نہیں ہوگا، کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ حمل نکاح سے پہلے قرار پایا تھا۔ البتہ اگر شوہر اس بچے کا اقرار کرے اور ایسی کوئی بات نہ کہے جس سے زنا کا صریح اعتراف لازم آتا ہو تو اس بارے میں فقہاء نے تفصیلی احکام ذکر فرمائے ہیں لہٰذا ایسی صورت میں مکمل اطلاع پر حکم بیان کیا جاتا ہے۔ والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
