(ایمان میں شک کرنا کفر ہے؟)
سوال:زید اور بکر ایمان کے متعلق باتیں کر رہے تھے کہ دورانِ گفتگو زید نے کہا:مجھے ایمان ہے یا نہیں خود پتہ نہیں"۔ اس پر بکر نے کہا: "بھائی! ایسا نہیں کہنا چاہیے اس پر زید نے بکر کو جھٹلایا۔ اب شریعت کی رو سے زید کے بارے میں کیا حکم ہے؟
سائل: محمد ریاض الدین رامپور ضلع بہرائچ شریف یوپی
الجواب بعون الملك الوهاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب:
صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی مسلمان اپنے ایمان میں شک کرتا ہے یا اپنے مومن ہونے کا یقین نہیں رکھتا کہ وہ مومن ہے یا کافر، تو ایسا شخص اسلام کے نزدیک کافر ہے۔ کیونکہ اپنے ایمان میں شک کرنا یا اپنے مومن ہونے کا یقین نہ رکھنا ،یہ کہنا کہ "میں مومن ہوں یا کافر، مجھے خود پتہ نہیں" تو وہ کفر ہے۔
لیکن، اگر اس بات کا مطلب یہ ہو کہ "مجھے معلوم نہیں کہ میرا خاتمہ ایمان پر ہوگا یا نہیں" (یعنی خاتمے کے بارے میں خوف یا تردید ہو)، تو پھر ایسے شخص کو کافر نہیں کہا جائے گا
جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"من شك في إيمانه وقال أنا مؤمن إن شاء الله فهو كافر إلا إذا أقول فقال لا أدري أخرج من الدنيا مؤمنا فحينئذ لا يكفر" (فتاویٰ عالمگیری، ج 2، ص 257)
اورجیسا کہ بہار شریعت میں ہے کہ
"جس شخص کو اپنے ایمان میں شک ہو، یعنی یہ کہتا ہے کہ مجھے اپنے مومن ہونے کا یقین نہیں، یا یہ کہتا ہے کہ معلوم نہیں میں مومن ہوں یا کافر تو وہ کافر ہے ہاں اگر اس کا مطلب یہ ہو کہ معلوم نہیں میرا خاتمہ ایمان پر ہوگا یا نہیں تو کافر نہیں" (بہار شریعت،ج 2، ح، 9، ص ،461)
لہٰذا، اگر زید نے شک کی حالت میں بلا قیدِ خاتمہ اپنے ایمان کے متعلق ایسا کلام کیا جس سے شک ظاہر ہوتا ہو، تو وہ اپنے اس قول سے رجوع کرے، اور ساتھ ہی اعلانیہ توبہ و تجدیدِ ایمان کرے۔ تجدیدِ نکاح بھی اس کے لیے ضروری ہے۔
والله تعالیٰ اعلم و رسوله ﷺأعلم بالصواب
کتبه: { فقیر قادری} محمد فیضان القادری رضوی لوکاھی بازار ضلع بہرائچ شریف یوپی الھند
