(سوال) کیا الله تعالیٰ سے دعا مانگنا فرض یا واجب ہے اور جو شخص دعا نہ مانگے اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
(جواب) دعا عظیم عبادت اور الله تعالیٰ سے بندے کے تعلق کا بہترین ذریعہ ہے الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا (القرآن الکریم، ٤٠/٦٠) اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ» دعا عبادت ہے (جامع الترمذي، م: ٣٢٤٧) لہٰذا دعا مانگنا نہایت فضیلت والی عبادت ہے، تاہم ہر وقت اور ہر حاجت کے لیے دعا کرنا بطورِ مستقل فرض یا واجب نہیں کہاجائے گا۔ جو شخص کبھی دعا نہ مانگے، محض اس وجہ سے اسے شرعاً کافر یا فاسق قرار نہیں دیا جاسکتا؛ البتہ اگر کوئی الله تعالیٰ سے دعا مانگنے کو حقیر سمجھتے ہوئے تکبر کے طور پر دعا سے منہ موڑے تو وہ کافر ہے۔ بعض دعائیں واجب ہیں جیسے دعائے قنوت۔ نبی کریم ﷺ کے لیے زندگی میں درود کی صورت میں ایک دفعہ دعا کرنا فرض ہے اور ہر مجلس ذکر میں ایک بار واجب پے۔ نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا واجب ہے جس میں دعائیہ کلمات بھی ہیں۔ والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
