(سوال) ایک شخص کئی سال سے بیمار ہے اور علاج سے افاقہ نہیں ہو رہا۔ کسی پنڈت نے علاج کی ضمانت دی ہے، مگر اس کے لیے بندروں کو کھانا کھلانا اور ایک مقررہ تاریخ کو گنگا میں نہانا ضروری بتایا ہے۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اور کیا اس سے ایمان و اسلام پر کوئی اثر پڑے گا؟
(جواب) دریائے گنگا میں مقررہ تاریخ کو مذہبی رسم یا علاج کی تاثیر کے عقیدے سے نہانا جائز نہیں۔ البتہ محض گنگا کے پانی میں بطورِ عام غسل کرنا بذاتِ خود کفر نہیں کہ اصل ممانعت اس عمل کو غیر اسلامی مذہبی رسم اور علاج کا ذریعہ سمجھنے میں ہے اور بندروں کو کھانا کھلانا اگر محض صدقہ کے طور پر ہو تو الگ بات ہے لیکن اسے ان کے کسی معبود کی تعظیم کے طور پر کرنا حرام ہے اسلام توحید پسند مذہب جو دوسرے مذاہب کے طریقوں اور رسموں کو اپنانے یا تشابہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتا اگر وہ کوئی مسلمان ہوتا اور یہ طریقہ عمل بتاتا یا اس کے بتائے علاج میں مذہبی منتر شرکیہ اعمال یا کفریہ رسومات شامل ہوتے تب بھی اس پر عمل حرام ہوتا اگر زید نے لاعلمی یا مجبوری میں ایسا کوئی عمل کر لیا ہو تو فوراً توبہ و استغفار کرے اور آئندہ ایسے طریقے سے بچے؛ البتہ محض اس عمل کے کرنے سے کسی شخص کے اسلام سے خارج ہونے کا حکم فوراً نہیں لگایا جائے گا جب تک اس کے عقیدے اور کیے گئے عمل کی مکمل شرعی صورت معلوم نہ ہو والله تعالى أعلم بالصواب
کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی ممبئی
