(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید یتیم ہے جب اس سے اس کے والدین کا نام پوچھا جائے تو وہ کہتا ہے میری والدہ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی الله تعالىٰ عنها ہیں اور میرے والد حضور ﷺ ہیں کیا اس کا اس طرح کہنا جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو کیا وجہ ہے؟
(جواب) نسبی والدین سے متعلق سوال پر نبی کریم ﷺ کو اپنا والد اور حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی الله تعالىٰ عنها کو اپنی والدہ بتانا مناسب نہیں ہے الله تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن الله کے رسول اور سب نبیوں کے خاتم ہیں۔‘‘ (القرآن الکریم ٣٣/٤٠) نیز ارشاد فرمایا ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ﴾ انہیں ان کے باپوں ہی کی طرف منسوب کرکے پکارو، یہ الله کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے (القرآن الکریم ٣٣/٥) اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ» جو شخص جانتے ہوئے اپنے حقیقی والد کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنا والد قرار دے، اس پر جنت حرام ہے (صحیح البخاری م: ٦٧٦٦ صحیح مسلم م: ٦٣) لہٰذا زید کا نبی کریم ﷺ کو اپنا حقیقی والد کہنا شرعاً درست نہیں البتہ اگر وہ محض محبت، عقیدت یا روحانی نسبت کے طور پر یہ الفاظ کہتا ہے اور حقیقی نسب مراد نہیں لیتا تو اسے نرمی سے سمجھایا جائے کہ میرے والد اور میری والدہ کے الفاظ حقیقی نسب کے لیے نہ کہے، بلکہ یوں کہے کہ میں نبی کریم ﷺ سے محبت کرتا ہوں اور حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی الله تعالىٰ عنها سے عقیدت رکھتا ہوں والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
