سوال) اگر ایک شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ساتھ دوسرا شخص اس کی اقتدا میں نماز شروع کردے، پھر تیسرا شخص جماعت میں شامل ہونے کے لیے آئے تو امام آگے بڑھے گا یا پہلے مقتدی پیچھے جائیں گے؟ نیز اگر امام کے دائیں بائیں کھڑے ہونے کی ترتیب میں کوئی گنجائش نہ ہو تو کیا حکم ہے؟
(جواب) اگر امام کے ساتھ پہلے سے ایک مقتدی نماز پڑھ رہا ہو اور دوسرا شخص جماعت میں شامل ہونا چاہے تو اصل طریقہ یہ ہے کہ پہلا مقتدی پیچھے ہٹ کر آنے والے مقتدی کے ساتھ امام کے پیچھے صف بنا لے کیونکہ ایک مقتدی امام کے دائیں جانب کھڑا ہوتا ہے جبکہ ایک سے زیادہ مقتدی امام کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں اگر پہلا مقتدی مسئلہ جانتا ہو اور پیچھے ہٹنے کی جگہ بھی ہو تو اسی کا پیچھے ہٹنا چاہیے اگر وہ مسئلہ سے ناواقف ہو یا پیچھے ہٹنے کی گنجائش نہ ہو تو امام آگے بڑھ سکتا ہے۔ اگر امام اور مقتدی میں سے کوئی بھی حرکت نہ کرے تو نیا آنے والا مقتدی، نماز فاسد ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو، پہلے مقتدی کو پیچھے ہونے کی طرف متوجہ کرسکتا ہے اور اگر ضرورت ہو تو امام کو بھی اشارہ کرسکتا ہے۔ تاہم جسے اشارہ کیا جائے وہ کچھ توقف کے بعد شریعت کے حکم کی اتباع کی نیت سے حرکت کرے، محض اشارے کی تعمیل کی نیت نہ کرے۔ اگر امام کے آگے بڑھنے اور مقتدی کے پیچھے ہونے دونوں میں سے کسی کی بھی گنجائش نہ ہو تو نئے آنے والے کو اس جماعت میں شامل نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنی نماز الگ پڑھنی چاہیے۔ اور اگر ایسی صورت میں وہ شامل ہوگیا تو جماعت مکروہِ تحریمی ہوگی۔ والله تعالى أعلم بالصواب
کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی ممبئی مہاراشٹر
