سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلے میں کہ رات کے وقت گھاس، پیڑ، پودوں اور جھاڑیوں وغیرہ کو ہاتھ لگانا یا چھونا منع ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رات کے وقت درخت اور پودے سو جاتے ہیں، اس لیے انہیں ہاتھ نہیں لگانا چاہیے۔ کیا شرعاً اس بات کی کوئی حقیقت ہے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں
المستفتی: محمد ریحان رضا
الجواب بعون الملک الوہاب
رات کے وقت گھاس درخت پودوں اور جھاڑیوں کو چھونا شرعاً جائز ہے اس کی کوئی ممانعت نہیں یہ کہنا کہ رات کے وقت درخت اور پودے سو جاتے ہیں اس لیے انہیں ہاتھ نہیں لگانا چاہیے شرعی اعتبار سے بے اصل بات ہے۔ شریعتِ مطہرہ میں ایسی کوئی پابندی ثابت نہیں کہ رات کے وقت پودوں کو چھونے سے گناہ ہوتا ہو یا کوئی نحوست و نقصان لازم آتا ہو
البتہ اگر کسی دوسرے کی ملکیت کے پودے ہوں تو مالک کی اجازت کے بغیر انہیں نقصان پہنچانا یا ان کی شاخیں اور پتے توڑنا جائز نہیں اسی طرح قبرستان کی ہری گھاس کاٹنے کا حکم الگ ہے کیونکہ اس کے متعلق فقہائے کرام نے خاص حکم بیان فرمایا ہے
لہٰذا محض رات ہونے کی وجہ سے گھاس، پیڑ پودوں اور جھاڑیوں کو چھونے سے پرہیز کرنا شرعاً ضروری نہیں، اور اس سلسلے میں عوام میں پھیلی ہوئی باتوں کو شرعی حکم سمجھنا درست نہیں
مذید معلومات کے لئے
فتاویٰ رضویہ، جلد ۲۳، صفحات ۲۶۶ تا ۲۶۷، رضا فاؤنڈیشن، لاہور؛ درختوں کو منحوس سمجھنے کے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا جواب مطالعہ کریں فقط والسلام
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار
