اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

میدانِ جنگ کے شہید کے غسل و کفن کا شرعی حکم



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میدان جنگ میں شہید ہونے والے کو اگر وہی دفن کرنا ہے تو غسل دیا جائے گا یا نہیں برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی فقط والسلام المستفی محمد ریحان رضا

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ 

الجواب بعون الملک الوہاب

میدانِ جنگ میں کفار سے باقاعدہ قتال کے دوران جو مسلمان شہید ہو جائے اسے غسل نہیں دیا جائے گا بلکہ جس لباس میں شہادت ہوئی ہے اسی میں دفن کیا جائے گا بشرطیکہ وہ لباس ستر کو چھپانے کے لیے کافی ہو البتہ اگر لباس ناکافی ہو تو بقدرِ ضرورت کپڑا بڑھا دیا جائے گا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوۂ اُحد کے شہداء کے بارے میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ادْفِنُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا

یعنی انہیں ان کے خون سمیت دفن کرو اور انہیں غسل نہ دیا جائے

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص میدانِ جنگ میں دشمن سے قتال کرتے ہوئے شہید ہو جائے تو اسے غسل نہیں دیا جائے گا بلکہ اس کے خون آلود لباس ہی میں دفن کیا جائے گا اور اس کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی

البتہ جو شخص میدانِ جنگ کے علاوہ کسی سبب سے فوت ہو یا زخمی ہونے کے بعد میدانِ جنگ سے باہر لا کر اس کی وفات ہو تو اس کے احکام عام میت کی طرح ہوں گے اور اسے غسل دیا جائے گا

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند

✔️✔️✔️ الجواب الصحیح والمجیب النجیح مولانا شاہد قادری رضوی منظری صاحب قبلہ اتر دیناجپور بنگال

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست