نیند کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کا حکم
سوال: اگر کوئی شخص وضو کرنے کے بعد سو جائے، لیکن اسے یقین ہو کہ سوتے وقت اس کی طرف سے ہوا خارج نہیں ہوئی، تو کیا دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے؟ نیز نیند سے وضو ٹوٹنے کا کیا حکم ہے؟
المستفی محمد طارق حسین بلگرام
الجواب: صورتِ مسئولہ میں محض اس بات کا یقین ہونا کہ سوتے وقت ہوا خارج نہیں ہوئی وضو کے باقی رہنے کے لیے کافی نہیں بلکہ اس میں نیند کی کیفیت اور حالت کا اعتبار ہوگا
اگر کوئی شخص ایسی حالت میں سویا کہ اس کے اعضاء ڈھیلے پڑ گئے اور اسے اپنے جسم سے خارج ہونے والی کسی چیز کا شعور باقی نہ رہا تو ایسی نیند سے وضو ٹوٹ جائے گا، اگرچہ بیدار ہونے کے بعد اسے ہوا خارج ہونے کا یقین نہ ہو۔ لہٰذا نماز ادا کرنے کے لیے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہوگا
اور اگر کوئی شخص بیٹھے ہوئے اس طرح سویا کہ اس کی نشست مضبوط رہی، سرین زمین یا اپنی جگہ سے اچھی طرح جمی ہوئی تھی اور بدن کے اعضاء ڈھیلے نہیں ہوئے تو ایسی نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا کیونکہ اس حالت میں حدث کے خارج ہونے کا امکان بہت کم ہوتا ہے
لہٰذا سونے کے بعد وضو باقی رہنے یا ٹوٹنے کا حکم صرف اس بات پر موقوف نہیں کہ ہوا خارج ہونے کا یقین ہے یا نہیں بلکہ نیند کی حالت دیکھی جائے گی کہ وہ کس کیفیت میں سویا تھا
خلاصہ: اگر گہری نیند ایسی حالت میں آئی کہ بدن کے اعضاء ڈھیلے ہوگئے تو وضو ٹوٹ جائے گا اور نماز کے لیے نیا وضو کرنا ہوگا، اور اگر بیٹھ کر ایسی حالت میں ہلکی نیند آئی کہ سرین اپنی جگہ مضبوطی سے جما رہا تو وضو نہیں ٹوٹے گا
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
