رب ھبلی امتی کہتے ہوئے پیدا ہوئے اس شعر کو پڑھنا کیسا؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مجھے ایک شرعی سوال پوچھنا ہے۔ سوال یہ ھے کہ سلام میں جو شیر پڑھا جاتا ھے ربی حبلی امتی کہتے ہوے پیدا ہوے اسکا پڑھنا کیسا ھے کیا ہمارے پیارے نبی ﷺ علیہ وسلم نے پیدا ہوتے ہی اپنی امت کو یاد فرمایا کسی معتبر کتاب سے حوالہ دیکر مشکور فرمایں
المستفی محمد رضوان خان ترکی
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
صورتِ مسئولہ میں سلامِ مبارک کے اندر یہ شعر پڑھا جاتا ہے رَبِّ هَبْ لِي أُمَّتِي کہتے ہوئے پیدا ہوئےیعنی حضورِ اقدس، حبیبِ کبریا ﷺ نے ولادتِ باسعادت کے وقت اپنی امت کو یاد فرمایا اور بارگاہِ الٰہی میں اپنی امت کے لیے عرض کی اس کے متعلق عرض ہے کہ یہ مضمون فی نفسہٖ درست ہے اور اسے پڑھنا جائز ہے کیونکہ اس مضمون کی تائید امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تصنیف فتاویٰ رضویہ سے ہوتی ہے
چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ جب وہ جانِ رحمت و کانِ رأفت پیدا ہوئے اور ارادۂ الٰہی میں سجدہ کیا اور ربِّ هَبْ لِي أُمَّتِي
یعنی حضورِ اقدس ﷺ جب پیدا ہوئے تو بارگاہِ الٰہی میں سجدہ کیا اور عرض کیا اے میرے رب میری امت مجھے عطا فرما
(فتاویٰ رضویہ، جلد ۳۰ صفحہ ۷۱۲)
اس سے معلوم ہوا کہ حضورِ اقدس ﷺ کی ولادتِ مبارکہ کے وقت اپنی امت کو یاد فرمانے اور امت کی فکر کا یہ مضمون معتبر کتاب میں موجود ہے لہٰذا سلام میں مذکورہ شعر پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں بلکہ یہ حضورِ اکرم ﷺ کی امت سے بے مثال محبت و شفقت کے اظہار پر مشتمل ہے
نیز حضورِ اقدس ﷺ کا اپنی امت کے لیے دعا فرمانا صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی امت کے لیے دعا کرتے ہوئے فرمایا اللَّهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي
یعنی اے اللہ میری امت میری امت اور آپ ﷺ اپنی امت کی فکر میں گریہ فرماتے رہے
(صحیح مسلم کتاب الإیمان باب دعاء النبي ﷺ لأمته وبكائه شفقة عليهم)
خلاصۂ کلام
لہٰذا رَبِّ هَبْ لِي أُمَّتِي کہتے ہوئے پیدا ہوئے یہ شعر پڑھنا جائز ہے اور اس کا مضمون بے اصل نہیں بلکہ فتاویٰ رضویہ جلد ۳۰ صفحہ ۷۱۲ میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے صراحتاً حضور ﷺ کی ولادت کے وقت رَبِّ هَبْ لِي أُمَّتِي کا ذکر فرمایا ہے
البتہ اسے حدیثِ صحیح کے عین الفاظ قرار دینے کے بجائے یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ یہ مضمون معتبر کتبِ اہلِ سنت میں منقول ہے اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اسے فتاویٰ رضویہ میں ذکر فرمایا ہے
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
