نماز کے وقت کمائی کرنے کا شرعی حکم
السؤال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز کے وقتوں میں جو پیسے کمائے جاتے ہیں کیا وہ حلال ہیں؟
المستفی محمد مراد عالم الھند
الجواب بعون الملک الوہاب
نماز کے وقت کاروبار یا ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی اصل کے اعتبار سے حلال ہے بشرطیکہ وہ کمائی خود بھی حلال ذریعہ سے ہو
البتہ اگر کوئی شخص نماز کا وقت آنے کے باوجود بلا عذر جان بوجھ کر نماز چھوڑ دیتا ہے یا اتنی دیر کر دیتا ہے کہ نماز قضا ہو جائے تو وہ سخت گناہ گار ہے لیکن اس کی اس دوران کی ہوئی حلال تجارت یا مزدوری کی آمدنی حرام نہیں ہو جاتی
ہاں جمعہ کے دن اذانِ ثانی کے بعد جن لوگوں پر جمعہ فرض ہے، ان کے لیے خرید و فروخت اور دنیاوی مشاغل چھوڑ کر جمعہ کے لیے حاضر ہونا واجب ہے۔ اس وقت کاروبار میں مشغول رہنا ناجائز اور گناہ ہے، اگرچہ اس تجارت سے حاصل ہونے والی رقم اصل کے اعتبار سے حلال ہی رہتی ہے
لہٰذا مسلمان پر لازم ہے کہ نمازوں کی پابندی کرے کاروبار اور ملازمت کو نماز میں رکاوٹ نہ بننے دے کیونکہ رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہے
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ حلال روزی کے ساتھ نمازوں کی پابندی بھی پوری اہتمام سے کرے کیونکہ دنیا و آخرت کی کامیابی اسی میں ہے
واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب الصحیح والمجیب النجیح محمد شاہد رضا قادری رضوی صاحب قبلہ
✔️✔️✔️ الجواب الصحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار
