📊 اسلامی معلومات گروپ ایک نظر میں

2326+
کل فتاویٰ
5000+
روزانہ زائرین
50+
فقہی ابواب
حنفی
مسلکِ اہل سنت

اپنے سوالات بھیجے

❓ شرعی سوال پوچھیں: نماز، روزہ، نکاح، طلاق اور دیگر مسائل کے لیے WhatsApp پر رابطہ کریں

موٹاپا کم کرنے کے لیے آپریشن کرانے کا شرعی حکم

ایسے شخص کہ بارے میں کیا حکم ہے جو موٹاپا کم کرانے کے لئے آپریشن کرائے_آپریشن کرانا کیسا

 

موٹاپا کم کرنے کے لیے آپریشن کرانے کا شرعی حکم


سوال: آج کل کچھ موٹے افراد وزن کم کرنے کے لیے آپریشن (جیسے معدہ کا آپریشن وغیرہ) کرواتے ہیں، کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟

الجواب بعون الملک الوہاب

صورتِ مسئولہ میں اصل حکم یہ ہے کہ انسانی جسم اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اس میں بلا ضرورت شرعیہ ایسا تصرف کرنا جس سے ضرر (نقصان) کا غالب اندیشہ ہو شرعاً درست نہیں

البتہ اگر کسی شخص کا موٹاپا اس حد تک پہنچ جائے کہ وہ مستند اطباء کے مطابق بیماری شدید تکلیف یا صحت کے یقینی خطرات (جیسے ذیابطیس دل کی بیماری سانس کی شدید دشواری وغیرہ) کا سبب بن رہا ہو اور ماہر و دیندار ڈاکٹر یہ مشورہ دیں کہ آپریشن علاج اور صحت کے تحفظ کے لیے ضروری یا مؤثر ذریعہ ہے تو ایسی صورت میں علاج کی نیت سے ایسا آپریشن کروانا شرعاً جائز ہے، کیونکہ شریعت میں علاج معالجہ اور ضرر کو دور کرنا مطلوب ہے

اور اگر محض خوبصورتی فیشن یا غیر ضروری خواہش کی بنا پر ایسا آپریشن کروایا جائے جس میں خطرات اور جسمانی نقصان کا اندیشہ ہو تو یہ عمل ناجائز یا کم از کم مکروہ تحریمی کے حکم میں ہوگا کیونکہ بلا ضرورت جسم کو نقصان پہنچانا شرعاً درست نہیں

لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ (نہ خود کو نقصان دینا جائز ہے اور نہ دوسروں کو)

خلاصہ: بیماری یا طبی ضرورت ہو جائز محض خوبصورتی یا فیشن کے لیے ہو → ناجائز / مکروہ تحریمی کے قریب

لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ پہلے پرہیز ورزش اور دوائی کے ذریعے علاج کیا جائے اور آپریشن صرف معتبر طبی ضرورت کے وقت کیا جائے

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب


کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند

✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ