(سوال) کیا والدین اور بہن بھائیوں کی قبر پر خود سے پودے وغیرہ لگانا جائز ہے؟
(جواب) والدین یا بہن بھائیوں کی قبر پر پودے لگانا جائز ہے، بلکہ اس میں امید ہے کہ یہ باعثِ رحمت ہوگا۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دو قبروں پر کھجور کی شاخیں گاڑ دی تھیں تاکہ جب تک یہ تر رہیں، ان کے عذاب میں تخفیف ہو۔(صحیح البخاري، م: ٢١٨، كتاب الطهارة، باب ما جاء في غسل البول) ہاں، پودوں کی جڑیں زیادہ پھیلنے نہ دی جائے بلکہ کچھ مہینوں بعد اسے منتقل کردیا جائے یا بہتر ہے پودے قبر کے سرہانے یا اطراف میں لگائیں جائیں۔ والله أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(مسئلہ) کیا قرآن مجید کی آیات کو اپنے کلام کی جگہ استعمال کرنا مطلقا کفر ہے جیسا کہ شرح فقہ اکبر عالمگیری، رضویہ وغیرہ میں ہے۔ میں ایک مکالمہ پڑھتا ہوں جو ابن مبارک اور ایک بڑھیا کے بیچ میں ہوا جس میں بڑھیا ہر سوال کا جواب آیت قرآن سے دیتی ہے، اگر یہ واقعہ صحیح ہوتو کیا ضعیفہ کا کفر ثابت ہوگا؟
(جواب) قرآن مجید کو اپنے کلام کی جگہ استعمال کرنا مطلقا کفر نہیں ہے بلکہ حکم کفر اسی صورت میں ہے جب بطور استہزاء استعمال کرے یا اس میں استخفاف کا پہلو معلوم ہو، یہی سوال میں مذکور کتابوں کے کئی جذئیات سے مستفاد ہے اور یہ استہزاء واستخفاف کی صورت میں تب بھی کفر ہے جب بطور مکالمہ نہ ہو۔ صورت دیگر یعنی جب سنجیدگی سے جواب دے اور اس میں آیات کہے تو صحیح یہ ہے کہ یہ کفر نہ ہوگا۔ جیسے کسی عالم کا مناظرہ میں مخالف سے کہنا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ. اسی طرح جب ثواب کی امید کے ساتھ یعنی یہ گمان کرتے ہوئے کہ اس طرح کلام کرنے سے اسے ثواب ملے گا یا اس نیت سے کہ سامنے والا مکالمہ سے نصیحت پکڑے گا تو یہ کفر نہ ہوگا آپ دیکھیں گے کہ علماء نماز کے مسائل میں جب مقتدی کا نماز میں آیت کے ذریعے غیر نمازی سے کلام کرنے کا ذکر کرتے ہیں تو کلام کو فساد کی وجہ بتاتے ہیں ناکہ کفر کو۔ میں کسی فقیہ کو اس باب میں کفر کے سبب فساد نماز کا حکم کرتے نہیں پایا كما قال الإمام العيني رحمة الله عليه في البناية (٤١٧/٢) لو قال لرجل اسمه يحيى {يا يحيى خذ الكتاب} (مريم: ١٢) تفسد صلاته لأنه أراد به الخطاب وكذا إذا قال لرجل اسمه يوسف: يا يوسف أعرض عن هذا وكذا لو قال له: من أي موضع مررت؟ فقال وهو في الصلاة: {وبئر معطلة وقصر مشيد} (الحج: ٤٥) وكذا لو قال لابنه وهو خارج السفينة {يابني اركب معنا} (هود: ٤٢) تفسد صلاته في الوجوه كلها ابن مبارک رحمة الله عليه اور ضعیفہ کا واقعہ میں نے سوشل میڈیا پر کئی بار دیکھا ہے یہ شیعی کتب مذکور ہے۔ (زهر الربيع، منهاج البراعة وغيرهما) اور بے حقیقت معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ شیعی کتب میں ہے جو امام قشیری کی کسی کتاب کی طرف منسوب ہے جس کا علم مجھے نہ ہوسکا (بحار الأنوار، ٧٦/٤٣) والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(سوال) بیمار آدمی نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن نیت نہیں باندھی تھی۔ نصف النہار کے بعد زیادہ کمزوری کی وجہ سے روزہ توڑ دیا اب اس شخص پر قضا اور کفارہ دونوں واجب ہوں گے یا صرف قضا؟
(جواب) صرف قضا واجب ہوگی۔ والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(مسئلہ) تکبیر تشریق فرض نماز کے بعد پڑھنا کیسا ہے جیسے عید کے دن نماز فجر ظہر عصر کے بعد پڑھ سکتے ہیں برائے کرم بحوالہ جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں؟
(جواب) نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک ہر نماز فرض پنجگانہ کے بعد جو جماعت مستحبہ کے ساتھ ادا کی گئی ایک بار تکبیر بلند آواز سے کہنا واجب ہے اور تین بار افضل ایسا ہی بہار شریعت میں ہے وفي بداية المبتدي (ص: ٢٨) يبدأ بتكبير التشريق بعد صلاة الفجر من يوم عرفة ويختم عقيب صلاة العصر من يوم النحر وهو عقيب الصلوات المفروضات على المقيمين في الأمصار في الجماعات المستحبة عند أبي حنيفة وليس على جماعات النساء إذا لم يكن معهن رجل ولا على جماعة المسافرين إذا لم يكن معهم مقيم. انتهي ان کے علاوہ دیگر نمازوں کے لیے یہ تکبیر واجب نہیں ہے اگر پڑھے تو حرج بھی نہیں ہے مگر وہ فضیلت وثواب نہیں والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(مسئلہ) اگر کسی شخص کے کرتے کا کالر کچھ پیچھے کی طرف مڑا ہوا ہو، یا نماز میں کسی ایسے شخص کا پاجامہ یا شلوار کی کمر پٹی پلٹ جائے جس کا پیٹ نکلا ہوا ہو تو کیا اس سے نماز مکروہ تحریمی ہوگی؟
(جواب) دونوں صورتوں میں نماز مکروہ تحریمی نہیں ہوگی ہاں پہلی صورت اساءت یعنی خلاف سنت ہونے کے سبب ناپسندیدہ اور دوسری میں چونکہ کمر پٹی پوشیدہ ہوتی ہے کراہت تحریمی وتنزیہی ثابت نہیں ہوتی البتہ جب خیال میں ہو، اس طرح پاجامہ یا شلوار پہن کر نماز پڑھنا خلاف اولی ہے والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
