6.26.2020

کیا فوج میں مرنے والے کو شہید کہنا صحیح ہے؟


                 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو کافر فوج میں مارے جاتے ہیں کیا ان کو شہید کہہ سکتے ہیں اور جو مسلمان ان کو شہید کہے اس کے بارے میں کیا حکم قرآن و حدیث و اقوال فقہاء کی روشنی میں جواب فرمائیں

             محمد عمران رضا پرسپور ضلع گونڈہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
          وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ

                    الجواب بعون الملك الوھاب

ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ شریعت کی اصطلاح میں شہید اسے کہتے ہیں جس نے اسلام کا کلمہ بلند کرنے کے لئے جنگ کی اور اسی راہ میں مار ڈالا گیا حضرت قاضی ناصر الدین بیضاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے الشهداء الذين أدى بهم الحرص على الطاعة والجد فى اظهار الحق حتى بذالو مهجم فى اعلاء كلمة الله.تفسیر بیضاوی مع شیخ زادہ جلد دوم صفحہ نمبر 148/ اور شیخ زادہ جلد دوم صفحہ/149میں ہے الشهيد من قام بشهادة الحق والعمل به الى قتل فى سبيل الله اھ۔ لہذا جو پاکستان۔چین۔اور بنگلہ دیش وغیرہ سے لڑائی کرتاہے وہ اسلام کی خاطر نہیں لڑتا بلکہ اپنے ملک کی حفاظت کے لئے لڑتا ہے تو وہ شرعی شہید نہیں ہوگا لیکن اسے شہید لغوی کہہ سکتے ہیں کہ مشہور لغت صراح میں شہید کا معنی کا معنی ہے کشتہ شدہ بے قصاص بے دیت۔ فتاوی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ نمبر/281

                         واللہ اعلم باالصواب

کتبہ محمد الطاف حسین قادری خادم التدریس دارالعلوم غوث الورٰی ڈانگا لکھیم پور کھیری یوپی الھند موبائیل فون/9454675382

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only