جعفرانی یعنی کہ بھگوا کپڑے پہننا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جعفرانی رنگ کا کپڑا پہننا کیسا بحوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی آپ کی فقط والسلام المستفتی محمد شاکر رضوی جہان آباد یوپی الھند

       جواب

جعفرانی یعنی کہ بھگوا رنگ کا کپڑا پہننا منع ہے
جیسا کہ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمہ در المختار کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ کسم یا زعفران کا رنگا ہوا کپڑا پہننا مرد کو منع ہے گہرا رنگ ہو کہ سرخ ہو جائے یا ہلکا ہو کہ زرد رہے دونوں کا ایک حکم ہے عورتوں کو یہ دونوں قسم کے رنگ جائز ہیں ان دونوں رنگوں کے سوا باقی ہر قسم کے رنگ زرد، سرخ، دھانی، بسنتی، چمپئی، نارنجی وغیرہا مردوں کو بھی جائز ہیں اگرچہ بہتر یہ ہے کہ سرخ رنگ یا شوخ رنگ کے کپڑے مرد نہ پہنے، خصوصا جن رنگوں میں زنانہ پن ہو مرد اس کو بالکل نہ پہنے (درمختار و ردالمحتار، کتاب الحظر والإباحۃ، فصل فی اللبس، ۹/ ۵۹۰) اور یہ ممانعت رنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ عورتوں سے تشبہ ہوتا ہے اس وجہ سے ممانعت ہے لہٰذا اگر یہ علت نہ ہو تو ممانعت بھی نہ ہوگی مثلا بعض رنگ اس قسم کے ہیں کہ عمامہ رنگا جاسکتا ہے اور کرتہ پاجامہ اسی رنگ سے رنگا جائے یا چادر رنگ کر اوڑھیں تو اس میں زَنانہ پن ظاہر ہوتا ہے تو عمامہ کو جائز کہا جائے گا اور دوسرے کپڑوں کو مکروہ (بہارِشریعت، ۳/ ۴۱۵)
نیز حدیث پاک میں ہے کہ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ قِرَائَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّکُوعِ ترجمہ یحییٰ بن یحیی، مالک نافع ابراہیم، بن عبداللہ بن حنین علی بن ابی طالب حضرت علی ؓ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قسی کپڑا (ریشم کی ایک قسم) پہننے سے منع فرمایا ہے اور عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور رکوع کی حالت میں قرآن مجید پڑھنے سے بھی منع فرمایا ہے

(بحوالہ صحیح مسلم حدیث نمبر: 5437)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے