(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شوہر نے اپنی بیوی سے کہا جا میں نے تجھے طلاق دی طلاق طلاق طلاق تو اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟ زید کہتا ہے کہ تین طلاقیں واقع ہوں گی کیونکہ لفظِ طلاق کی تکرار سے کل طلاق واقع ہو جاتی ہے جیسا کہ فتاویٰ شامی وغیرہ میں ہے جبکہ بکر کہتا ہے کہ ایک ہی طلاق واقع ہوگی کیونکہ لفظ “جا” سے طلاقِ بائن واقع ہو گئی اور بائن کے بعد عورت نکاح سے خارج ہو جاتی ہے، لہٰذا بعد کے الفاظ لغو ہوں گے، قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح حکم بیان فرمائیں۔
(جواب) جا میں نے تجھے طلاق دی یہ پہلی صریح طلاق ہے اور بعد کے الفاظ اس پر اضافہ، لہذا اگر وہ مدخولہ ہے تو وہ حرمت مغلطہ سے حرام ہوگئی اور غیر مدخولہ ہے تو ایک طلاق بائن واقع ہوئی۔ اور اگر شوہر کہتا ہے کہ لفظ جا سے بھی طلاق کی نیت کی تھی تب ہی یہی حکم ہے کہ طلاق بائن دینے کے بعد بھی مدخولہ جب تک عدت نہ مکمل کرلے محل طلاق ہے۔ قال الإمام عليه رحمة المنعام اور ایک ہی پڑنے کی یہ وجہ ٹھہرانا کہ الفاظِ طلاق متفرقا کہے جب اول پڑی اب عورت محلِ طلاق نہ رہی لہذا دوسری نہ پڑی یہ یوں جہل محض ہے یہ حکم خاص زنِ غیر مدخولہ کے ساتھ ہے، زن مدخولہ جب تک عدت نہ گزرے تین طلاق مجموع ومفرق سب کی محل ہے کما نصوا علیه قاطبة في جمیع كتب المذهب (فتاوی رضویہ، ٥٨٥/١٢) والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
