(١)زید مسلمان تو ہے لیکن شراب پیتا ہے نماز بھی نہیں پڑھتا ہے تو افطاری کے لیے سامان مسجد میں دیتا ہے تو کھانا کیسا ہے؟ مع حوالہ دیا جواب عنایت فرمائیں
(٢)عرض یہ ہے کہ اگر کوئی ہندو مرجاتا ہے تو اس کو دیکھنے جاسکتے ہیں اور اس کو دیکھنے کے بعد کیا پڑھنا چاہیے مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی
المستفی محمد ساھل رضا بریلی شریف
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
(1) شرابی اور بےنمازی کی طرف سے افطاری کا سامان دینااگر زید مسلمان ہے اگرچہ شراب پیتا ہے اور نماز نہیں پڑھتا مگر اس کی کمائی حلال ہے تو اس کے دیے ہوئے افطاری کے سامان کا کھانا جائز ہےاس کے فسق کا اثر مال پر نہیں پڑتا وہ خود گنہگار ہے
حوالہ:فتاویٰ ہندیہ 5/343
کافر کی لاش دیکھ کر اس کے لیے مغفرت یا رحمت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ کافر کے لیے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرنا حرام ہے البتہ اسے دیکھ کر عبرت حاصل کرے اور اپنے ایمان پر خاتمہ کی دعا کرے۔ مثلاً یہ دعا پڑھ لے
اَللّٰهُمَّ لَا تُؤَاخِذْنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا وَتَوَفَّنَا عَلَى الْإِيمَانِ یا اَللّٰهُمَّ ثَبِّتْنَا عَلَى الْإِيمَانِ وَاخْتِمْ لَنَا بِالْخَيْرِ ترجمہ: اے اللہ! ہمیں ایمان پر ثابت قدم رکھ اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرما
قرآن مجید میں ارشاد ہے:مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ(سورۃ التوبہ: 113)
ترجمہ نبی اور ایمان والوں کے لیے جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کریں
خلاصہ کلام یہ ہے کہ شرابی اور بےنمازی کےیہاں سے کھانا فینفسہ کھاناجاٸز ہے لیکن نصیحت کی وجہ سے ترک بہتر
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✅✅✅الجواب صحیح والمجیب النجیح فقط حضرت علامہ مولانا مفتی محمد صبر نواز صاحب قبلہ مدظلہ العالی النورانی
