سجدہ میں کتنی دیر تک انگلیاں رکھنا ضروری ہے؟
(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سجدے کے متعلق فقہاء نے فرمایا ہے کہ دونوں پیروں کی تین تین انگلیوں کا پیٹ لگنا واجب ہے، تو کیا یہ واجب پوری مدتِ سجدہ میں باقی رہنا شرط ہے یا بقدرِ ادائے سجدہ (یعنی ایک تسبیح کے برابر) لگ جانا کافی ہے؟ نیز اگر ایک مرتبہ سبحان الله کہنے کے برابر دونوں پیروں کی تین تین انگلیوں کا پیٹ لگ گیا، اس کے بعد سجدے کے باقی وقت میں انگلیوں کا پیٹ ہٹ گیا یا صرف سِرا لگا رہا تو کیا نماز درست ہو جائے گی؟ زید کا کہنا ہے کہ ایک تسبیح کے برابر پیٹ لگ جانا کافی ہے اور پوری مدت میں لگے رہنا ضروری نہیں، جیسا کہ فتاوی خلیلیہ میں منقول ہے، جبکہ بکر کہتا ہے کہ جتنی دیر سجدہ ہو اتنی دیر پیروں کی تین تین انگلیوں کا پیٹ لگا رہنا ضروری ہے، کتبِ فقہِ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
(جواب) تین انگلیوں کے پیٹ کا پوری مدتِ سجدہ میں زمین پر لگنا شرط نہیں بلکہ بقدرِ تحققِ سجدہ کافی ہے، یعنی اتنی دیر کہ سجدہ شرعاً ادا ہو جائے چنانچہ اگر سجدے میں ایک مرتبہ سبحان الله کہنے کے بقدر دونوں پیروں کی تین تین انگلیوں کا پیٹ زمین سے لگ گیا تو واجب ادا ہو گیا اس کے بعد اگر سجدے کے باقی وقت میں انگلیوں کا پیٹ ہٹ جائے یا صرف سِرا لگا رہے تو نماز فاسد یا مکروہ نہ ہوگی بکر کے قول پر عمل کرنے کی صورت میں عوام کے لیے شدید حرج لازم آتا ہے، اور چونکہ اس مسئلہ میں عمومِ بلوی پایا جاتا ہے، اس لیے اس پر کراہتِ تحریمی کا حکم لگانا مناسب نہیں، بلکہ اتنا کافی ہے کہ دونوں پیروں کے اگلے حصے کا کچھ حصہ زمین سے مس ہو جائے اور اگر ایک پاؤں زمین سے لگ جائے تو دوسرا پاؤں کم از کم اس سے چھو کر زمین کے تابع شمار ہو جائے، یہی صورت کافی ہے والله تعالى أعلم
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
