سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ یہ بات کہتے ہیں کہ خنزیر کے آگے والے پیر جنّتی ہوتے ہیں اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الملک الوہاب
شریعتِ مطہرہ میں اس قسم کی بات کا کوئی اصل اور ثبوت موجود نہیں کہ خنزیر کے کسی عضو خصوصاً اس کے آگے کے پیروں کو جنّتی کہا جائے۔ یہ محض بے بنیاد اور عوامی سطح کی من گھڑت بات ہے جس کا قرآن و سنت اور اقوالِ فقہاء سے کوئی تعلق نہیں
بلکہ خنزیر کی حرمت اور نجاست قرآنِ کریم سے صراحتاً ثابت ہے چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ﴿إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ﴾ (سورۃ البقرۃ: 173)
اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ خنزیر کا گوشت حرام ہے اور فقہاءِ کرام کی تصریحات کے مطابق خنزیر نجس العین جانور ہے جس کا پورا جسم ناپاک اور حرام ہے
لہٰذا جس جانور کا پورا جسم شرعاً نجس اور حرام ہو اس کے کسی مخصوص عضو کوجنّتی کہنا شریعت کی رو سے بے اصل غلط اور قابلِ ترک بات ہے
خلاصہ حکم خنزیر کے آگے کے پیر یا کسی بھی عضو کو جنّتی کہنا شرعاً درست نہیں بلکہ یہ بے دلیل اور غلط تصور ہے اس سے اجتناب لازم ہے ایسے شخص کا توبہ لازمی ہے جبکہ خنزیر نجس العین ہے
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات
